
ہمارے مدرسے اور مسجد کی کمیٹی نے کچھ اصول بنائے ہیں:
1۔ جو طالب علم بلا اجازت غیر حاضر ہو، اس سے ہر دن کے حساب سے جرمانہ لیا جاتا ہے، اور یہ رقم مدرسے کے فنڈ میں جمع کی جاتی ہے۔
2۔ جو استاد تاخیر سے آئے، اس کی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹی جاتی ہے، حالانکہ ملازمت کے وقت اس شرط کا ذکر نہیں ہوا تھا۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ ان دونوں صورتوں میں مالی جرمانہ وصول کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور جو رقم پہلے وصول کی جا چکی ہے، اس کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ کسی غلطی یا کوتاہی کی سزا کے طور پر کسی سے رقم وصول کرنا "تعزیر بالمال" (مالی جرمانہ) ہے، جو شرعاً جائز نہیں، اور اس طرح وصول کی گئی رقم بدستور اسی شخص کی ملکیت رہتی ہے جس سے لی گئی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں:
1۔ بلا اجازت غیر حاضری پر طلبہ سے یومیہ جرمانہ لینا جائز نہیں، اور اس رقم کو مدرسہ کے فنڈ میں جمع کرنا یا مدرسہ کے کسی مصرف میں خرچ کرنا بھی درست نہیں۔ اب تک وصول کی گئی رقم متعلقہ طلبہ یا ان کے سرپرستوں کو واپس کرنا لازم ہے، اور جو رقم فنڈ سے خرچ ہو چکی ہے اس کے بقدر رقم کی واپسی خرچ کرنے والوں کے ذمہ لازم ہے۔ جن طلبہ کا پتہ نہ چل سکے، ان کی رقم ان کی طرف سے صدقہ کر دی جائے۔ البتہ تنبیہ کی غرض سے کچھ رقم بطورِ امانت روک لی جائے اور کچھ مدت کے بعد پوری کی پوری اسی طالب علم کو لوٹا دی جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔
2۔ تاخیر سے آنے والے استاد کی تنخواہ سے تاخیر کے وقت کے بقدر کٹوتی کرنا جائز ہے، اگرچہ ملازمت کے وقت اس کا ذکر نہ ہوا ہو۔ تاخیر کے وقت سے زائد جو رقم کاٹی جائے، وہ مالی جرمانہ ہے جس کی کٹوتی جائز نہیں، اور اب تک کاٹی گئی زائد رقم استاد کو واپس کرنا لازم ہے۔
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ج:1، ص:261، ط: رحمانیہ)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وقال القدوري المشترك من لا يستحق الأجر حتى يعمل والخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل."
(كتاب الإجارة، باب ضمان الأجير، ج:5، ص:134، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، فصل في التعزير، ج:5، ص:44، ط: دار الكتاب الإسلامي)
مجمع الأنهر میں ہے:
"ولا يكون التعزير بأخذ المال من الجاني في المذهب."
(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:1، ص:609، ط: بیروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج، وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان (قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي... وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(كتاب الحدود، باب التعزير، مطلب في التعزير بأخذ المال، ج:4، ص:61، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، مطلب فيمن ورث مالا حراما، ج:5، ص:99، ط: سعید)
درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے:
"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المقالة الثانية، المادة: 97، ج:1، ص:98، ط: دار الجيل)
وفیہ ایضاً:
"(المادة 469) تلزم الأجرة باستيفاء المنفعة... تلزم الأجرة باستيفاء المنفعة أي باستيفاء المنفعة المعقود عليها في الإجارة كلها أو بعضها أو إيفاء الأجير العمل الذي استؤجر لأجله وإتمامه."
(الكتاب الثاني في الإجارة، الباب الثالث، الفصل الثاني، ج:1، ص:532، ط: دار الجيل)
وفیہ ایضاً:
"إذا أتلف أحد مال غيره الذي في يده أو في يد أمينه قصدا أو من غير قصد أو أتلف بعضه فأنقص قيمته بلا إذن ولا أمر سواء أكان عالما بكونه مالا للغير أم ظانا بأنه ماله يضمن."
(الكتاب الثامن في الغصب، الباب الثاني، الفصل الأول في الإتلاف مباشرة، المادة: 912، ج:2، ص:597، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100745
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن