بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 مرض الموت میں وارث اور غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار


سوال

ہمارے والد صاحب طویل بیماری کے بعد انتقال کر گئے۔ وفات سے تقریباً ایک ماہ پہلے، جب وہ چلنے پھرنے سے معذور تھے اور ڈاکٹروں نے بچنے کی امید کم بتا دی تھی، انہوں نے گھر والوں کے سامنے کہا کہ "میں نے اپنے بڑے بیٹے سے کاروبار کے لیے ایک بڑی رقم قرض لی تھی، وہ میرے ذمے ہے، میرے مال سے ادا کر دینا۔" اس کا کوئی تحریری ثبوت یا گواہ نہیں، صرف والد صاحب کا یہ کہنا ہے۔ اسی مجلس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک غیر رشتہ دار پڑوسی کی کچھ رقم بھی ان کے ذمے ہے۔

اب بڑا بھائی ترکہ  کی تقسیم سے پہلے اپنی رقم مانگ رہا ہے، اور پڑوسی بھی اپنی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ باقی ورثاء کہتے ہیں کہ بھائی کا دعویٰ قبول نہیں، یہ ہمیں محروم کرنے کی صورت ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ مرض الموت میں کیے گئے ان دونوں اقراروں کا کیا حکم ہے؟ اور ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے کیا کیا ادا کرنا ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ مرض الموت میں کسی غیر وارث کے لیے قرض کا اقرار معتبر ہے، اور وہ قرض میراث کی تقسیم سے پہلے ترکہ سے ادا کیا جاتا ہے، خواہ پورا ترکہ اس میں صرف ہو جائے۔ کسی وارث کے لیے قرض کا اقرار باقی ورثاء کی تصدیق کے بغیر معتبر نہیں۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے مرض الموت کی حالت میں بڑے بیٹے کے لیے جس قرض کا اقرار کیا ہے، وہ اقرار شرعاً نافذ نہیں۔ محض اس اقرار کی بنیاد پر بڑا بیٹا ترکہ کی تقسیم سے پہلے مذکورہ رقم کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ جو عاقل بالغ وارث اس اقرار کی تصدیق کرے، وہ اپنے حصے میں سے یہ رقم بڑے بیٹے کو دے سکتا ہے، اور جو تصدیق نہ کرے اسے اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

پڑوسی کے لیے کیا گیا اقرار معتبر ہے، اور اس کی رقم مرحوم کے ترکہ سے ادا کی جائے گی۔ اگر مرحوم کے ذمے حالتِ صحت کا کوئی قرض ہو، یا ایسا قرض ہو جس کا سبب اقرار کے بغیر معلوم ہو، اور ترکہ سب قرضوں کے لیے کافی نہ ہو، تو پہلے وہ قرض ادا کیا جائے گا اور اس کے بعد پڑوسی کا۔

ترکہ سے سب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین کا متوسط خرچ نکالا جائے گا۔ پھر پڑوسی کا قرض اور مرحوم کے دیگر ثابت شدہ قرض ادا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو باقی ترکہ کے ایک تہائی میں اسے نافذ کیا جائے گا۔ جو بچے وہ ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔

سنن الترمذي میں ہے:

"إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث"

(أبواب الوصايا، باب ما جاء لا وصية لوارث، رقم: 2120، ج:4، ص:432، ط: مصطفى البابي الحلبي)

تبيين الحقائق میں ہے:
"لأن شرط تعلق حقهم الفراغ عن حقه؛ ولهذا يقدم كفنه عليهم قال رحمه الله (وأخر الإرث عنه) أي عن الديون التي أقر بها في حالة المرض لما بينا آنفا. قال رحمه الله (وإن أقر المريض لوارثه بطل إلا أن يصدقه بقية الورثة)... ولنا قوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث ولا إقرار له بالدين» وقول ابن عمر رضي الله تعالى عنهما إذا أقر الرجل في مرضه بدين غير وارث فإنه جائز، وإن أحاط ذلك بماله، وإن أقر لوارث فغير جائز إلا أن يصدقه الورثة؛ ولأن فيه إيثار بعض الورثة بماله بعدما تعلق حق جميعهم به فلا يجوز لما فيه من إبطال حق البقية كالوصية له"

(كتاب الإقرار، باب إقرار المريض، ج:5، ص:25 ط:دار الكتاب)

الجوهرة النيرة میں ہے:
"(قوله: وإذا أقر الرجل في مرض موته بديون وعليه ديون لزمته في صحته وديون لزمته في مرضه بأسباب معلومة فدين الصحة والدين المعروف بالأسباب مقدم) لأنه لا تهمة في ثبوت المعروف بالأسباب؛ إذ المعاين لا مرد له مثل بدل مال يملكه أو استهلكه وعلم وجوبه بغير إقراره، أو تزوج امرأة بمهر مثلها وهذا الدين مثل دين الصحة لا يقدم أحدهما على الآخر"

(كتاب الإقرار، ج:1، ص:256 ط:المطبعة الخيرية)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط... ثم بالدين وأنه لا يخلو إما أن يكون الكل ديون الصحة أو ديون المرض، أو كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض، فإن كان الكل ديون الصحة أو ديون المرض فالكل سواء لا يقدم البعض على البعض، وإن كان البعض دين الصحة والبعض دين المرض يقدم دين الصحة إذا كان دين المرض ثبت بإقرار المريض، وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث"

(كتاب الفرائض، الباب الأول، ج:6، ص:447، ط: دار الفكر)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(إلا بإجازة ورثته)؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة»"

(كتاب الوصايا، ج:6، ص:656، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100736

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں