بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تقسیم میں راستہ طے نہ ہونے کی صورت میں مشترکہ راستے کا حکم، اور اس پر کمرہ بنانا


سوال

ہمارے دادا کا ایک بڑا پلاٹ تھا، جس کے سامنے گلی کی طرف صرف ایک ہی راستہ نکلتا ہے۔ ان کے انتقال کے بعد تین بیٹوں میں زمین تین حصوں میں بانٹ دی گئی اور ہر ایک نے اپنا مکان بنا لیا۔ تقسیم کے وقت راستے کے بارے میں کچھ طے نہیں ہوا تھا۔

اب یہ صورت پیش آئی ہے کہ سامنے والے حصے کا مالک کہتا ہے کہ راستہ میری زمین میں آ گیا ہے، اس لیے وہ میری ملکیت ہے؛ باقی دو بھائی اگر گزرنا چاہیں تو مجھے کرایہ دیں یا پیچھے سے اپنا الگ راستہ نکالیں، جبکہ پیچھے سے راستہ نکالنے کی کوئی جگہ نہیں۔ اسی طرح اس نے راستے کے اوپر چھت ڈال کر ایک کمرہ بھی بنا لیا ہے اور اس میں پانی کی لائن اور میٹر بھی اپنے نام کر لیا ہے، حالانکہ پانی کی لائن پہلے سے تینوں مکانوں میں جاتی ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ:
1۔ مشترکہ راستے کا شرعاً کیا حکم ہے، کیا وہ تقسیم میں سامنے والے کی ملکیت بن گیا؟
2۔ راستے پر کمرہ بنانا اور پانی کی لائن اپنے نام کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

1۔ واضح رہے کہ اگر مشترکہ زمین کی تقسیم کے وقت راستے کا ذکر نہ کیا جائے، اور تقسیم کے بعد کسی حصے دار کے لیے اپنے حصے سے راستہ نکالنے کی گنجائش نہ ہو، تو ایسی تقسیم برقرار نہیں رہتی، بلکہ فسخ ہو کر ازسرِ نو کی جاتی ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب تقسیم کے وقت راستے کے بارے میں کچھ طے نہیں ہوا،تھا اور پیچھے والے دونوں حصوں سے گلی تک راستہ نکالنے کی جگہ نہیں ہے، تو سامنے والا حصے دار اس راستے کا تنہا مالک نہیں بنا۔ اس کا راستے کو اپنی ملکیت قرار دینا، دوسرے دونوں بھائیوں سے گزرنے کا کرایہ طلب کرنا، یا انہیں الگ راستہ نکالنے پر مجبور کرنا درست نہیں۔ مذکورہ تقسیم ازسرِ نو اس طرح کی جائے کہ ہر حصے کو گلی تک راستہ حاصل ہو۔

2۔ سامنے والے بھائی کا دوسرے دونوں بھائیوں کی اجازت کے بغیر راستے کے اوپر چھت ڈال کر کمرہ بنانا جائز نہیں۔ دونوں بھائی اس پر راضی نہ ہوں تو اسے یہ تعمیر ہٹانی ہوگی، اور اس تعمیر سے راستے کو جو نقصان پہنچا ہو اس کا ضمان بھی اسی پر لازم ہوگا۔ پانی کی جو لائن پہلے سے تینوں مکانوں میں جاتی ہے، وہ تینوں کی مشترک ہے۔ میٹر اپنے نام کروا لینے سے وہ اس کا تنہا مالک نہیں بنا۔ اس کے لیے دوسرے دونوں مکانوں کا پانی روکنا یا لائن میں ان کا حق ختم کرنا جائز نہیں۔

صحیح مسلم میں ہے:
"من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين."

(کتاب المساقاۃ، باب تحریم الظلم وغصب الأرض وغیرہا، رقم: 1610، ج:3، ص:1230، ط: دار إحياء التراث العربي)

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"(وإن لم يكن) صرف الطريق والمسيل عنه (فسخت القسمة؛ لأن القسمة مختلة لبقاء الاختلاط) وعدم الإفراز والتمييز (فتستأنف) أي إذا كان كذلك فيستأنف القسمة. وقال الإمام الأسبيجابي رحمه الله في "شرح الطحاوي": فهذا لا يخلو إما أن يذكر في القسمة الطريق أو لا يذكر، فإن ذكروا فالقسمة جاهزة ويمر في الطريق، وإن لم يذكروا فإنه ينظر إن كان له مفتح فيما أصابه فإنه يفتح الطريق فيها سواء ذكروا بكل حق هو له أو لم يذكروا، وإن لم يكن له مفتح فيما أصابه إن ذكروا بكل حق هو له فإنه يمر في نصيب صاحبه، وإن لم يذكروا بكل حق هو له فالقسمة باطلة، وكذلك في حق مسيل الماء."

(کتاب القسمۃ، فصل في كيفية القسمة، ج:11، ص:436، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:
"وليس لأحد من أهل الدرب الذي ليس بنافذ أن يشرع كنيفا ولا ميزابا إلا بإذنهم لأنها مملوكة لهم، ولهذا وجبت الشفعة لهم على كل حال، فلا يجوز التصرف أضر بهم أو لم يضر إلا بإذنهم."

(کتاب الدیات، باب ما يحدثه الرجل في الطريق، ج:13، ص:231، ط: دار الكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"دار مشتركة بين قوم فلبعضهم أن يربط فيها دابة وأن يتوضأ فيها ويضع فيها خشبة ولو عطب به إنسان لم يضمن، وليس له أن يحفر فيها بئرا أو يبني بناء بغير إذن شريكه، وإن بنى أو حفر ضمن النقصان ويؤمر برفع البناء، كذا في الفتاوى العتابية."

(کتاب الکراہیۃ، الباب التاسع والعشرون في الانتفاع بالأشياء المشتركة، ج:5، ص:370، ط: دار الفكر)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."

(المادۃ: 97، ج:1، ص:98، ط: دار الجيل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100734

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں