
جس شخص کے پاس کچھ چاندی اور کچھ نقد رقم ہو یا صرف نقد رقم ہو اور جس سے سونے کا نصاب پورا نہیں ہوتا ہے تو اس کی زکات میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوتا ہے، یعنی چاندی کی قیمت فروخت سے حساب کیا جاتا ہے کہ مذکورہ رقم یا چاندی اور رقم، چاندی کے نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے یا نہیں۔
چنانچہ جس شخص کے پاس کوئی چاندی موجود نہیں بلکہ صرف نقد رقم ہے، تو اگر وہ ساڑھے باون تولہ (52.5 تولہ) چاندی کی مالیت کے برابر رقم کا مالک ہو تو وہ صاحب نصاب شمار ہوگا، لیکن یہاں یہ بات معلوم کرنا ہے کہ ایسی صورت میں بازار میں نئی چاندی کی جو قیمت ہے کیا اس کے اعتبار سے حساب کیا جائے گا؟ یا کسی کی ملکیت میں موجود چاندی کی قیمت کا؟ کیونکہ عام طور پر جب کوئی بازار سے چاندی خرید لیتا ہے یا اس کے پاس پہلے سے رکھی ہوئی ہوتی ہے اس کی قیمت بازاری قیمت سے کم ہوا کرتی ہے۔
صورت مسئولہ میں نصاب زکات میں معیار ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت ہے، لہذا صرافہ بازار میں چاندی کی بیچتے وقت جو قیمت ہے اس کا اعتبار ہو گا، اور اس حساب سے زکوۃ نکالی جائے گی۔
بدائع الصنائع میں ہے:
''وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.''
(كتاب الزكاة، فصل صفة الواجب في أموال التجارة، ج:2، ص: 22، ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
''(و جاز دفع القيمة في زكاة و عشر و خراج و فطرة و نذر و كفارة غير الاعتاق) و تعتبر القيمة يوم الوجوب.''
(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج: 2، ص: 286، ط: سعید)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100726
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن