
اگر کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم موجود نہ ہو، اور وہ ویزا، قانونی کارروائی یا کسی دیگر ضرورت کے لیے فیس ادا کرکے بینک یا کسی کارندے کے ذریعے جعلی یا فرضی بینک اسٹیٹمنٹ بنواتا ہے، تو ایسی جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانے کا شرعی حکم کیا ہے؟
نیز بینک یا کارندہ اگر جعلی بینک اسٹیٹمنٹ تیار کر کےفراہم کرنے کے عوض فیس وصول کرے، تو کیا یہ فیس شرعاً رشوت کے حکم میں داخل ہے؟ اور ایسی جعلی اسٹیٹمنٹ تیار کرنے کے لیے فیس دینا اور فیس لینا دونوں کا شرعی حکم کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کسی شخص کے بینک اکاؤنٹ میں حقیقۃً مطلوبہ رقم موجود نہ ہو، لیکن ویزا، قانونی کارروائی یا کسی دوسرے غرض کے لیے فیس دے کر بینک یا کسی ایجنٹ کے ذریعے ایسا بینک اسٹیٹمنٹ تیار کرواتا ہے، جس میں حقیقت کے خلاف زیادہ رقم ظاہر کی گئی ہو، تو ایسی جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانا ناجائز ہوگا؛ کیونکہ اس میں جھوٹ، غلط بیانی اور دھوکہ دہی پائی جاتی ہے۔
نیز جعلی اسٹیٹمنٹ تیار کرکے فراہم کرنے کی اجرت لینا بھی جائز نہیں ہوگا، کیونکہ یہ ناجائز کام میں تعاون ہے۔ اور یہ رقم رشوت کے حکم میں بھی داخل ہے۔
پس جعلی اسٹیٹمنٹ بنوانے کے لیے فیس دینا اور لینا، دونوں ناجائز ہیں۔اور اس سے اجتناب لازم ہے۔
قرآن کریم میں ہے :
﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾ [المائدة: 2]
ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ (از بیان القرآن)
سنن ترمذی میں ہے:
"عن ابي هريرة قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي"
(أبواب الاحکام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ،باب ما جاء في الراشي والمرتشي في الحكم ،ج:3،ص:173،رقم الحديث: 1385،ط:دار الرسالة العالمية)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ من غش فليس مني."
(كتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله تعالى عليه وسلم: من غشنا فليس منا، ج: 1، ص: 69، رقم الحدیث: 102، ط:دار طوق النجاة)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے:
"الرشوة في اللغة: مثلثة الراء: الجعل، وما يعطى لقضاء مصلحة... قال الفيومي: الرشوة - بالكسر -: ما يعطيه الشخص للحاكم أو غيره ليحكم له، أو يحمله على ما يريد. وقال ابن الأثير: الرشوة: الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء... والراشي: من يعطي الذي يعينه على الباطل، والمرتشي: الآخذ، والرائش: الذي يسعى بينهما يستزيد لهذا ويستنقص لهذا.والرشوة في الاصطلاح: ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، وهو أخص من التعريف اللغوي... الرشوة في الحكم، ورشوة المسئول عن عمل حرام بلا خلاف، وهي من الكبائر." الخ
(حرف الراء، رشوة، ج:22، ص:219-223، ط: دار السلاسل)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100725
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن