بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 فرضی نام سے آن لائن کاروبار، غیر سید کا سادات کی نسبت لگانا اور غیر مستحق کا "مفتی" یا "علامہ" لکھنے کا حکم


سوال

چند باتیں دریافت طلب ہیں:
1۔ آن لائن کام کرنے والے بعض لوگ اپنے اصل نام کے بجائے فرضی نام سے اکاؤنٹ بناتے ہیں اور اسی نام سے گاہکوں سے معاملہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات بیرونِ ملک کے گاہکوں کو اعتماد میں لینے کے لیے مسلم نام کے بجائے غیر مسلموں جیسا نام رکھتے ہیں۔
2۔ ایک شخص نے اپنے نام کے ساتھ کسی مشہور سادات خاندان کی نسبت لگا لی، حالانکہ وہ اس خاندان سے نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ لوگوں میں عزت بڑھتی ہے۔
3۔ کچھ لوگ اپنے نام کے ساتھ "مفتی" یا "علامہ" لکھ لیتے ہیں جبکہ انہوں نے یہ تعلیم حاصل نہیں کی۔

ان تینوں صورتوں کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور پہلی صورت میں فرضی نام سے کیے گئے معاملات اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ اپنے اصل نام کے بجائے فرضی نام سے اکاؤنٹ بنا کر گاہکوں کے سامنے اپنے آپ کو کوئی دوسرا شخص ظاہر کرنا دھوکا ہے، جو جائز نہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے غیر مسلموں جیسا نام اختیار کرکے گاہکوں پر اپنے آپ کو غیر مسلم ظاہر کرنا اس سے بڑھ کر سخت گناہ ہے۔ انجام کے اعتبار سے بڑا خطر ناک ہے، ایست افراد پر صدق دل سے تو بہ و استغفار کرنا  اور اپنی اصل شناخت کے ساتھ معاملات کرنا لازم ہے۔ فرضی نام سے کیے گئے معاملات میں اگر کام یا مال طے شدہ اوصاف کے مطابق گاہک کے حوالے کیا گیا ہو تو اس کی اجرت یا قیمت حلال ہوگی، البتہ فرضی نام کا گناہ اپنی جگہ باقی رہے گا۔ اور اگر کام یا مال میں بھی طے شدہ اوصاف کے خلاف دھوکا دیا گیا ہو تو جو کام معاہدے کے مطابق ادا نہیں ہوا، اس کی اجرت کا وہ مستحق نہیں ہوگا۔

2۔ جو شخص نسب کے اعتبار سے سادات میں سے نہ ہو، اس کے لیے اپنے نام کے ساتھ کسی سید خاندان کی نسبت لگانا جائز نہیں، یہ اپنے نسب کو غیر کی طرف منسوب کرنا ہے جو کبیرہ گناہ ہے۔ لوگوں میں عزت بڑھانے کی نیت سے اس کا حکم نہیں بدلتا۔ اس نسبت کو ہٹانا اور توبہ کرنا لازم ہے۔

3۔ جس شخص نے افتاء کی باقاعدہ تعلیم و تربیت حاصل نہ کی ہو، اس کا اپنے نام کے ساتھ "مفتی" لکھنا جائز نہیں۔یہ جھوٹ ، غلط بیانی اور بدترین دھوکہ دہی ہے۔ اسی طرح جس کو وہ علمی مقام حاصل نہ ہو جس پر "علامہ" کا لقب دلالت کرتا ہے، اس کا اپنے لیے یہ لقب لکھنا بھی جائز نہیں۔ ایسے شخص کے لیے فتویٰ دینا بھی جائز نہیں۔ ان القاب کو ترک کرنا اور توبہ کرنا لازم ہے۔

قرآن کریم میں ہے:

 "لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوا وَّيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُم بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ"

(سورۃ آل عمران: 188)

ترجمہ: 

جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر ان کی تعریف ہو، انہیں ہرگز عذاب سے بچا ہوا نہ سمجھو، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وفیہ اضا:

"ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ"

(سورۃ الأحزاب: 5)

ترجمہ:

 انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔

صحيح البخاري  میں ہے:
"ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم فليتبوأ مقعده من النار."

(کتاب المناقب، رقم: 3508، ج:4، ص:180، ط: السلطانية)

وفيه أيضا: 
"أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن لي ضرة، فهل علي جناح إن تشبعت من زوجي غير الذي يعطيني؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور."

(کتاب النکاح، باب المتشبع بما لم ينل وما ينهى من افتخار الضرة، رقم: 5219، ج:7، ص:35، ط: السلطانية)

وفيه أيضا: 
"من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام."

(کتاب الفرائض، باب من ادعى إلى غير أبيه، رقم: 6766، ج:8، ص:156، ط: السلطانية)

صحيح مسلم میں ہے:

"من ادعى إلى غير أبيه، وهو يعلم أنه غير أبيه، فالجنة عليه حرام."

(کتاب الإيمان، باب بيان حال إيمان من رغب عن أبيه وهو يعلم، رقم: 63، ج:1، ص:80، ط: دار إحياء التراث العربي)

وفيه أيضا: 
"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا."

(کتاب الإيمان، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من غشنا فليس منا، رقم: 101، ج:1، ص:99، ط: دار إحياء التراث العربي)

وفيه أيضا: 
"جاءت امرأة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إن لي ضرة، فهل علي جناح أن أتشبع من مال زوجي بما لم يعطني؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المتشبع بما لم يعط كلابس ثوبي زور."

(کتاب اللباس والزينة، باب النهي عن التزوير في اللباس وغيره والتشبع بما لم يعط، رقم: 2130، ج:3، ص:1681، ط: دار إحياء التراث العربي)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح  میں ہے:
"(فمن رغب عن أبيه): أي وانتسب إلى غيره (فقد كفر): أي قارب الكفر، أو يخشى عليه الكفر. في النهاية: الدعوة بالكسر في النسب، وهو أن ينتسب الإنسان إلى غير أبيه وعشيرته، وكانوا يفعلونه فنهوا عنه، والادعاء إلى غير الأب مع العلم به حرام، فمن اعتقد إباحته كفر لمخالفة الإجماع، ومن لم يعتقد إباحته فمعنى (كفر) وجهان: أحدهما: أنه أشبه فعله فعل الكفار، والثاني: أنه كافر نعمة الإسلام."

(کتاب النکاح، باب اللعان، ج:5، ص:2170، ط: دار الفکر)

الفتاوى الهندية میں ہے:

"ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة: إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج:4، ص:413، ط: دار الفکر)

مجموعة رسائل ابن عابدين  میں ہے:
"وقد رأيت في فتاوى العلامة ابن حجر سئل في شخص يقرأ ويعتمد على مطالعته في الكتب فهل يجوز له ذلك أم لا؟ فأجاب بقوله: لا يجوز له الإفتاء بوجه من الوجوه."

(الرسالة الأولى: العلم الظاهر في نفع النسب الطاهر، ج:1، ص:15، ط: سهیل اکیڈمی لاهور)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100722

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں