
طلاق اور رجوع کا مکمل طریقہ اور طلاق کنفرم ہونے کے بعد رجوع کا کیا طریقہ ہے؟
طلاق دینے کابہترطریقہ یہ ہے کہ عورت کوپاکی کی حالت میں ایک طلاق رجعی دے دی جائے،ایک طلاق کے بعد عدت کے اندراگرچاہیں تورجوع کرلیں اور رجوع نہ کرناچاہیں تو عدت گزرنے کے بعد عورت آزادہوگی،وہ کسی اورسے نکاح کرناچاہے تو درست ہوگا۔ اس کو شریعت میں" طلاق احسن" کہتے ہیں۔ایک طلاق رجعی کے بعد عورت کی عدت گزرجائے پھرصلح کی کوئی صورت نکل آئے تو نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح بھی ہوسکتاہے۔ایسی صورت میں آئندہ دو طلاقوں کا حق حاصل ہوگا۔
بیک وقت تین طلاقیں دینا شرعاًسخت ناپسندیدہ ہے، اس لیے بیک وقت تین طلاقیں نہ دی جائیں۔ لیکن اگر تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی جائیں تو بھی واقع ہوجاتی ہیں،اورتین طلاقوں کے بعد رجوع کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔
اگر ایک یا دو طلاق رجعی دی جائیں تو عدت میں رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہردورانِ عدت بیوی سے قولی یا فعلی رجوع کرلے، قولاً یہ کہہ دے کہ میں آپ سے رجوع کرتا ہوں، اور بہتر یہ ہے کہ اس پر گواہ بھی بنالے، تاکہ بعد میں کوئی انکار نہ کر سکے،یا فعلاً رجوع کرلے جیسے بوس و کنار کرلے وغیرہ۔
تاہم طلاق بائن کی صورت میں قولی یا فعلی رجوع نہیں کیا جا سکتا، البتہ ایک یا دو طلاقیں دی ہو ں تو پھر مطلقہ کی رضامندی کےساتھ نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیا جائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أحسن الطلاق في ذوات القرء أن يطلقها طلقة واحدة رجعية في طهر لا جماع فيه ولا طلاق ولا في حيضة طلاق ولا جماع ويتركها حتى تنقضي عدتها ثلاث حيضات ."
(كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 88، ط: دارالكتب العلميه)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض."
(الباب السادس فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ج: 1، ص: 470، ط: ماجديه)
وفیہ ایضاً:
"وهي –الرجعة- على ضربين: سني، وبدعي، فالسني أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك.
(الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1، ص:468، ط: ماجديه)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144804100682
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن