شوہر کی مارپیٹ سے تنگ آکر بیوی کی خودکشی کا حکم
سوال
ایک عورت مسماۃ ’’م‘‘ کا نکاح چند سال قبل ہوا۔ گھریلو مسائل اور ناچاقیوں کی وجہ سے مسماۃ ’’م‘‘ دلبرداشتہ رہتی تھیں۔ ایک دن خاوند اور اس کی بہنوں کے ساتھ جھگڑا ہوا، جس کے بعد مسماۃ ’’م‘‘ نے دریا میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔
مندرجہ بالا صورتِ حال میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔ کیا جھگڑے کی وجہ سے مسماۃ ’’م‘‘ کا یہ انتہائی قدم اٹھانے پر خاوند مجرم شمار ہوگا؟
2۔ کیا مسماۃ ’’م‘‘ کی وفات کے بعد اس کا خاوند اس کی وراثت میں حقدار ہوگا؟
3۔ مسماۃ ’’م‘‘ کے جہیز کے سامان کا حقدار کون ہوگا؟
جواب
1۔ اگر شوہر کی طرف سے بیوی پر مسلسل مارپیٹ اور ظلم کیا جاتا تھا تو وہ اپنے اس ظلم کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، تاہم محض اس وجہ سے کہ بیوی نے اس ظلم سے تنگ آکر خودکشی کرلی، تو ایسی صورت میں شرعاشوہر کو خودکشی کا مجرم قرار نہیں دیا جائے گا، ایک عاقل بالغ مکلف مرد عورت اپنے تمام افعال کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں ۔
2۔ اگر وفات کے وقت نکاح قائم تھا لہٰذا خودکشی کرنے کے باوجود شوہر بیوی کے ترکہ میں شرعی وارث ہوگا۔ اگر مرحومہ کی کوئی اولاد نہ ہو تو شوہر کو نصف، اور اگر اولاد ہو تو چوتھائی حصہ ملے گا۔
3۔ مرحومہ کا جہیز مرحومہ کی ملکیت تھا تو اس کی وفات کے بعد وہ بھی اس کے ترکہ میں شامل ہوگا، لہٰذا جہیز صرف میکے والوں کا حق نہیں ہوگا، بلکہ مرحومہ کے تمام شرعی ورثاء اپنے اپنے مقررہ حصوں کے مطابق اس کے حقدار ہوں گے۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ"(سورۃ الانعام: 164)
ترجمہ: "اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔"(از بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"لأن المباشرة تقطع نسبة الفعل إلى المتسبب."
(كتاب الديات، باب الجناية بغير حق، ج: 6، ص: 601، ط: سعيد)
وفیہ ایضا:
"وأسباب الإرث ثلاثة: نسب، وسبب وهو الزوجية، وولاء..."
(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 762، ط: سعيد)
وفيه ايضا:
"وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة، ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة، أو تقديرا كالحمل، والعلم بجهة إرثه."
(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 525، ط: سعيد)
کفایت المفتی میں ہے :
”لڑکی کو شادی کے موقع پر جو مال واسباب بطورِ جہیز دیا جاتا ہے وہ سب لڑکی کی ملک ہے، انتقال کے بعد اس کے ترکہ میں شامل ہوگا۔“
(کتاب الفرائض، ج: 8، ص: 305، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

