بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 ربیع الثانی 1448ھ 11 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا بیٹی کا نام مُحَرَّمَہ / مَحرَمہ رکھا جا سکتا ہے؟

سوال

والد کا نام صہیب اور والدہ کا نام عائشہ ہے، کیا بیٹی کا نام محرمہ رکھا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ”محرمہ“ کا تلفظ اور معنی متعین ہونے کی صورت میں حکم بیان کیا جائے گا؛ کیونکہ یہ لفظ حرکات کے اختلاف سے مختلف معانی رکھتا ہے۔اگر ” مَحرَمہ “ ( میم  اور راء کے زبر کےساتھ )  کے معنیٰ: حرمت اور احترام والی عورت،   ایسی عورت جس سے قرابت کی وجہ سے نکاح حرام ہو ۔ اوراگر  ”مُحَرَّمہ“ ( میم کے پیش اور راء کی تشدید کے ساتھ ) کے معنی: حرام کی ہوئی، ممنوع، جسے حرام قرار دیا گیا ہوکے آتے ہیں۔  مذکورہ معانی کے لحاظ سے لڑکی کا نام تو رکھا جاسکتا ہے، تاہم نام رکھنے کے لیے ایسے نام کا انتخاب بہتر ہے جس کا معنیٰ واضح طور پر اچھا اور پسندیدہ ہو۔ بہتر  یہ ہے کہ لڑکی کا نام حضرات اُمہات المؤمنین اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں پر رکھا  جائے ، یہ باعث خیر وبرکت بھی ہے ۔

چند اسماء گرامی درج ذیل ہیں:

فاطمہ، نائلہ، آمنہ،ماریہ،اُمامہ،    خَدِیجہ، مَیمُونہ، صَفِیّہ،رَملہ، حَفصہ،سَودَہ، حَمنہ، رُقَیّہ، کُلُثُوم، جُوَیرِیہ، بَرِیرَہ،  رَیحانہ، مَریم، سُعاد، نَفِیسَہ۔ 

نیز اس سلسلے میں ہماری ویب سائٹ پر اسلامی نام کے سیکشن سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

سنن أبی داود  میں ہے:

"عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم."

ترجمہ:”حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگوں کو قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔ (یعنی والدین اولاد کے نام اچھے رکھیں)۔“

( كتاب الأدب، باب في تغيير الأسماء، ج: 4، ص: 287، ط: المكتبة العصرية)

المعجم الوسيط میں ہے: 
" ( الْمُحرمَة والمحرمة ) مَا يحرم انتهاكه من عهد أَو مِيثَاق أَو نَحْوهمَا وَزَوْجَة الرجل وَعِيَاله وَمَا يحميه ( ج ) محارم." 

( ج: 1، ص: 169، ط: دار الفكر )

القاموس الوحید  میں ہے: 

” حرَّم الشيءَ علیه وعلیٰ غیره: حرام و ناجائز بنانا، حرام و ممنوع قرار دینا۔  المحرَّم:  قابل احترم و تقدس۔ المُحرَم: ناجائز کام ، قابل ِاحترام و عزت شے، وہ مرد یا عورت جو ایک دوسرے کےلیے حرام ہوں یعنی قرابت کی وجہ سے نکاح جائز نہ ہو اور ان میں پردہ نہ ہو۔ جمع: محارم۔ 

( ص: 331- 332، ط: ادارہ اسلامیات) 

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100655
تاریخ07-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں