میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچوں کی پرورش اور نان و نفقہ کی ذمہ داری کا حکم
سوال
میرے اور میری بیوی کے درمیان علیحدگی ہو رہی ہے، سوال یہ ہے کہ اگر علیحدگی ہو جائے تو بچے کس کی پرورش میں رہیں گے؟ یعنی ان پر کس کا زیادہ حق ہوگا؟ اور ان کا نان و نفقہ کس پر لازم ہوگا؟ ایک بیٹا 12 سال کا ہے اور دوسرا 10 سال کا ہے۔
جواب
1۔اگر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہوجائے تو ایسی صورت میں بیٹوں کی کفالت (پرورش) سے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ بیٹوں کی عمر سات سال ہونے تک ان کی پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے، بیٹے کی عمر سات سال مکمل ہوتے ہی اس کی پرورش کا حق والد کو حاصل ہوجاتا ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں چوں کہ آپ کے دونوں بیٹوں کی عمر سات سال سے زیادہ ہے (یعنی ایک دس سال کا ہے اور دوسرا بارہ سال کا ہے) اس لیے یہ دونوں بیٹے آپ کی پرورش میں رہیں گے یعنی ان دونوں کی پرورش کرنا آپ کا حق ہے۔
2۔دونوں بیٹوں کے بالغ ہونے اور کمانے کے قابل ہونے تک ان کے نان و نفقہ کا انتظام کرنا بھی آپ (والد) کے ذمہ ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(تثبت للأم) ... (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:555، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء، وقدر بسبع، وبه يفتى؛ لأنه الغالب ...(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم، بحر بحثاً.
وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع، وبه يفتى."
(کتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:566، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن ومن يلحقه العار بالتكسب وطالب علم لا يتفرغ لذلك.
(قوله: لطفله) هو الولد حين يسقط من بطن أمه إلى أن يحتلم، ويقال جارية، طفل، وطفلة، كذا في المغرب. وقيل أول ما يولد صبي ثم طفل ح عن النهر (قوله يعم الأنثى والجمع) أي يطلق على الأنثى كما علمته، وعلى الجمع كما في قوله تعالى {أو الطفل الذين لم يظهروا} [النور: 31] فهو مما يستوي فيه المفرد والجمع كالجنب والفلك والإمام - {واجعلنا للمتقين إماما} [الفرقان: 74]- ولا ينافيه جمعه على أطفال أيضا كما جمع إمام على أئمة أيضا فافهم."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:612، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

