بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1448ھ 29 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مشترکہ ٹیوب ویل کے پانی کی باری، شریک کا اپنی باری کا پانی دوسرے گاؤں کے کسان کو دینا اور قریب میں نیا بورنگ کروانا


سوال

ہمارے گاؤں میں کئی سال سے ایک نلکوپ (ٹیوب ویل) چل رہا ہے، جسے علاقے کے آٹھ کسانوں نے مل کر لگوایا تھا۔ خرچ سب نے برابر اٹھایا تھا، مگر زمینیں کم و بیش ہیں۔ پانی باری باری دیا جاتا ہے۔

اب دو جھگڑے کھڑے ہو گئے ہیں:
1۔جن کی زمین زیادہ ہے وہ کہتے ہیں کہ باری کا وقت زمین کے حساب سے ہونا چاہیے؛ جن کی کم ہے وہ کہتے ہیں کہ خرچ برابر دیا ہے، اس لیے باری بھی برابر ہوگی۔
2۔ایک شریک اپنی باری کا پانی اپنی زمین میں استعمال کرنے کے بجائے دوسرے گاؤں کے ایک کسان کو رقم لے کر دے دیتا ہے۔ باقی شرکاء اس پر اعتراض کرتے ہیں۔

3۔اس کے علاوہ ایک صاحب نے اسی کھیت کے قریب اپنی زمین میں نیا اور زیادہ گہرا بورنگ کروا لیا، جس کے بعد پرانے نلکوپ کا پانی کم ہو گیا ہے۔ باقی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا نقصان ہوا ہے، یہ بورنگ بند کروایا جائے۔

ان تینوں باتوں کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ٹیوب ویل کے ذریعے زمین سے نکالا گیا پانی ٹیوب ویل کے مالکان کی ملکیت ہوتا ہے، اور مشترکہ ٹیوب ویل کے پانی میں ہر شریک کا حق اس کی ملکیت کے حصے کے بقدر ہوتا ہے، زمین کے کم یا زیادہ ہونے کے بقدر نہیں۔

1۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر ٹیوب ویل لگواتے وقت شرکاء نے باہمی رضامندی سے باری کا کوئی طریقہ طے کیا تھا، یا اب تک سب کی رضامندی سے باری کسی خاص طریقے پر چلتی آئی ہے، تو وہی طریقہ برقرار رہے گا، اور کسی فریق کو دوسروں کی رضامندی کے بغیر اسے بدلنے کا اختیار نہیں۔ اور اگر اس بارے میں کچھ طے نہیں ہوا تھا تو خرچ برابر ہونے کی صورت میں آٹھوں شرکاء کی باری کا وقت برابر ہوگا۔

2۔ شریک کے لیے اپنی باری کا پانی ایسی زمین کی طرف لے جانا جس کا اس ٹیوب ویل کے پانی میں حق نہیں، جائز نہیں، دیگر شرکاء کا اعتراض درست ہے۔ ٹیوب ویل سے نکلتا ہوا پانی براہِ راست دوسرے کے کھیت میں چھوڑ کر اس کے عوض رقم لینا بھی درست نہیں؛ البتہ اگر وہ اپنی باری کا پانی پہلے حوض وغیرہ میں جمع کر لے تو اس جمع شدہ پانی کو فروخت کرنا جائز ہے۔

3۔ اپنی مملوکہ زمین میں مالک کا تصرف جائز ہے، اگرچہ اس سے پڑوسی کے کنویں یا ٹیوب ویل کا پانی کم ہو جائے، اس ممنوع ضرر میں داخل نہیں۔ لہٰذا جن صاحب نے اپنی زمین میں نیا بورنگ کروایا ہے، پرانے ٹیوب ویل کا پانی کم ہو جانے پر نہ ان پر کوئی تاوان لازم ہے اور نہ انہیں بورنگ بند کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

النتف فی الفتاویٰ میں ہے:

"وأما البئر فإنها على وجهين، أحدها أن يحفرها الرجل في ملكه أو في داره أو في فنائه للماء فإنه جائز إلا أنه لا حريم لها ويجوز لجاره أن يحفر في داره بئرا للماء أيضا، فلو حفر الآخر في داره بالوعة أو حشا وذلك يفسد بئر ماء جاره لم يكن له ذلك في قول الشيخ محمد صاحب وجاز في قول بعض الفقهاء."

(كتاب الشرب، ماء البئر، ج:2، ص:624 ط:مؤسسة الرسالة)

تبیین الحقائق میں ہے:

"(نهر بين قوم اختصموا في الشرب فهو بينهم على قدر أراضيهم)؛ لأن المقصود بالشرب سقي الأراضي والحاجة إلى ذلك تختلف بقلة الأراضي وكثرتها والظاهر أن حق كل واحد منهم من الشرب بقدر أرضه وبقدر حاجته بخلاف الطريق إذا اختلف فيه الشركاء حيث يستوون في ملك رقبة الطريق، ولا يعتبر في ذلك سعة الدار وضيقها؛ لأن المقصود فيه الاستطراق، وهو لا يختلف باختلاف الدار، ولا يقال قد استووا في إثبات اليد على النهر فوجب أن يستووا في الاستحقاق؛ لأنا نقول الماء لا يمكن إثبات اليد عليه حقيقة إذ لا يمكن إحرازه، وإنما ذلك بالانتفاع به والظاهر أن الانتفاع يتفاوت بتفاوت الأراضي فيتفاوت الإحراز... وإنما لا يكون له أن يقسم بالأيام بعدما وقعت القسمة بالكوى؛ لأن القديم يترك على حاله لظهور الحق فيه... وإنما لا يكون له أن يسوق شربه إلى أرض له أخرى ليس له فيها شرب؛ لأنه إذا فعل ذلك يخشى أن يدعي حق الشرب لها من هذا النهر مع الأولى."

(كتاب إحياء الموات، مسائل الشرب، ج:6، ص:41-42، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"وإن حفر الثاني بئرا وراء حريم الأولى فذهب ماء البئر الأولى فلا شيء عليه؛ لأنه غير متعد في حفرها."

(كتاب إحياء الموات، ج:12، ص:303 ط:دار الكتب)

وفیہ ایضاً:

"قال: وليس لأحد الشركاء في النهر أن يسوق شربه إلى أرض له أخرى ليس لها في ذلك شرب لأنه إذا تقادم العهد يستدل به على أنه حقه."

(كتاب إحياء الموات، فصل في الشرب، ج:12، ص:336 ط:دار الكتب)

البحر الرائق میں ہے:

"والقياس أن له ذلك في الكل لكن ترك القياس وأخذ بالاستحسان لأجل المصلحة واختلف أصحابنا فمنهم من فصل ومنهم من لم يفصل على حسب الحال. قال وكان الشيخ الإمام الأجل برهان الأئمة يفتي بأنه إن كان الضرر بينا يمنع وبه يفتى هكذا ذكر في كتاب الحيطان للحسام."

(كتاب القضاء، مسائل شتى من كتاب القضاء، ج:7، ص:33 ط:دار الكتاب)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة... وأما بيع ماء جمعه الإنسان في حوضه ذكر شيخ الإسلام المعروف بخواهر زاده في شرح كتاب الشرب أن الحوض إذا كان مجصصا أو كان الحوض من نحاس أو صفر جاز البيع على كل حال وكأنه جعل صاحب الحوض محرز الماء بجعله في حوضه."

(كتاب البيوع، الباب التاسع، الفصل في بيع الماء والجمد، ج:3، ص:121، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وقال الرملي: إن صاحب البئر لا يملك الماء... وهذا ما دام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتيال كما في السواني فلا شك في ملكه له لحيازته له في الكيزان ثم صبه في البرك بعد حيازته."

(كتاب البيوع، ج:5، ص:67، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100631

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں