بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1448ھ 28 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعوت كے مقصد سے كارٹون بنانا


سوال

ہمارے علاقے میں ایک دینی پروگرام  میں لوگوں کو دعوت دینے کے لیے  بچوں کا ایک کارٹون ” موٹو پتلو“ کی ویڈیو شکل (کارٹونی شکل  اور آواز  جس  میں ساز وغیرہ نہیں ہے، اور کارٹون بھی ساد ہ، بغیر ٹوپی پگڑی اور ڈاڑھی کے ہے) کو  بطور ِ اشتہار استعمال کرتا ہے، آیا اس طریقہ سے کسی کو دعوت دینا اور اس کا رواج ہونا شرعا ً کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شدید ضرورت کے بغیر جان دار کی تصویر بنانا (خواہ ڈیجیٹل ہو) حرام اور کبیرہ  گناہ ہے اور احادیث شریفہ میں جاندار کی تصاویر کے بارے میں بہت سی وعیدات وارد ہوئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ جس گھر میں کسی جاندار کی تصویر ہو رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، ایک دوسری روایت میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا، نیز  کسی بھی  جاندار اشیاء کے ہم شکل کارٹون اگر اس طرح بنائے جائیں کہ ان میں جاندارکی شکل اور چہرہ   وغیرہ واضح ہوں اور جاندار کے چہرے کے طور پر ان کی شناخت ہورہی ہو تو ایسے کارٹون بھی تصویر کے حکم میں ہیں، ان کا بنانا اور استعمال کرنا دونوں ناجائز ہوگا۔

  لہذا صورتِ مسئولہ میں   جان دار  کی تصاویر والے  کارٹون  بنانا  اور اس عمل کا رواج دینا  جائز نہیں ہے، اگرچہ یہ عمل  دعوتِ دین کے لیے کیا جائے،  دین کی دعوت کے لیے جائز طریقہ   استعمال کرنا ضروری ہے۔

صحیح بخاری میں ہے:

"عن ابن عباس، عن أبي طلحة، رضي الله عنهم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌تدخل ‌الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير»." 

(کتاب اللباس،باب التصاویر، 7/ 167 ط: دارطوق النجاۃ)

وفیہ ایضاً:

"حدثنا سفيان، حدثنا الأعمش، عن مسلم، قال: كنا مع مسروق، في دار يسار بن نمير، فرأى في صفته تماثيل، فقال: سمعت عبد الله، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون»."

(کتاب اللباس،باب التصاویر، 7/ 167، ط: دارطوق النجاۃ)

وفیہ ایضاً:

"حدثنا أنس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، أن عبد الله بن عمر، رضي الله عنهما أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."

(کتاب اللباس،باب التصاویر ، 7/  167،  ط: دارطوق النجاۃ)

فتاوی شامی میں ہےـ:

"(قوله ولبس ثوب فيه تماثيل) عدل عن قول غيره تصاوير لما في المغرب: الصورة عام في ذي الروح وغيره، والتمثال خاص بمثال ذي الروح ويأتي أن غير ذي الروح لا يكره قال القهستاني: وفيه إشعار بأنه لا تكره صورة الرأس، وفيه خلاف كما في اتخاذها كذا في المحيط، قال في البحر: وفي الخلاصة وتكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لا انتهى، وهذه الكراهة تحريمية. وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا. وظاهر قوله فينبغي الاعتراض على الخلاصة في تسميته مكروها."

(کتاب الصلوۃ،باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیها، 1/ 647،  ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144804100617

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں