بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ربیع الثانی 1448ھ 30 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضائے حاجت کرنے کے لیے بیھٹتے وقت دائیں ہاتھ کو پیشانی پر رکھنا


سوال

قضائے حاجت کرنے کے لیے بیھٹتے وقت دائیں ہاتھ کو پیشانی پر رکھنا اور بائیں ہاتھ کو پیٹ اور ران کے درمیان میں رکھنا کیا یہ سنت ہے؟

جواب

قضائے حاجت کے لیے بیٹھتے وقت دائیں ہاتھ کو پیشانی پر رکھنا اور بائیں ہاتھ کو پیٹ اور ران کے درمیان رکھنا احادیثِ مبارکہ سے بطورِ سنت ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے سنت سمجھ کر اختیار کرنا درست نہیں۔ قضائے حاجت کے دیگر آداب احادیث سے ثابت ہیں، مثلاً قبلہ کی طرف منہ یا پشت نہ کرنا، دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرنا اور طہارت کے لیے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا۔ اگر کوئی شخص مذکورہ طریقے سے ہاتھ محض عادت یا سہولت کے لیے رکھتا ہے تو اس میں حرج نہیں، البتہ اسے سنت یا مسنون طریقہ قرار نہیں دینا چاہیے۔قضائے حاجت کے لیے بیٹھنے کابہتر  طریقہ یہ ہے کہ   قضاءِ حاجت کی جگہ پر   بیٹھ کر دونوں پاؤں کو کشادہ رکھے اور  بائیں پیر کی طرف مائل ہوجائے یعنی زیادہ بوجھ بائیں پاؤں پر  ڈالے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ثم یوسع بین رجلیه و یملی علی رجله الیسری، و لایفکر في أمر الآخرة، و لاینظر إلی عورته و لا إلی ما یخرج منه."

(کتاب الطہارۃ : ١/ ٥٥٩ سعید)

 فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144804100592

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں