بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

"تو کہتی ہے تو میں ابھی طلاق دیتا ہوں" کہنے کا حکم


سوال

میرا نکاح رمضان سے پہلے ہوا، دو ماہ تک ہم صحیح طور پر ساتھ رہے، لیکن اس کے بعد ناچاقی شروع ہوگئی۔پھر  میری بیوی  میکے گئی ۔ تو میں نے کچھ عرصے بعد اس کو فون کیا میں نے فون پر کہا کہ تو کیا چاہتی ہے؟تجھے طلاق دوں؟تو کہتی ہے تو میں ابھی طلاق دیتا ہوں۔تو یہی چاہتی ہے۔جس پر بیوی نے  کوئی جواب نہیں دیا،اور مذکورالفاظ کےعلاوہ میں نے طلاق کے کوئی اور  الفاظ بھی اد ا نہیں کیے ،اس صورتحال میں ہمارے نکاح کا کیا حکم ہے؟میری اس جملہ سے طلاق کی نیت نہیں تھی، البتہ میں غصہ میں تھا۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل نے فون پر بیوی سے اگر واقعۃ یہی الفاظ کہے کہ: "تو کیا چاہتی ہے؟ تجھے طلاق دوں؟ تو کہے تو میں ابھی طلاق دیتا ہوں، تو یہی چاہتی ہے"۔ اگر ان کے علاوہ نہ سائل نے کچھ کہا اور نہ بیوی نے کچھ کہا، تو ان الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔

البحر الرائق میں ہے:

"وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير."

(كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج:3، ص:271، ط: دار الكتاب الإسلامي)

رد المحتار میں ہے:

"وحينئذ فوجه الشبه أن التهديد بالطلاق في معنى عرض الطلاق عليها؛ لأن قوله أطلقك إن فعلت كذا بمنزلة قوله: أبيع عبدي هذا."

(كتاب العتق، باب عتق البعض، فرع قال أحد شريكين للآخر بعت منك نصيبي، ج:3، ص:669، ط: ايچ ايم سعيد)

الفتاوى الهندية میں ہے:
"ولو قال لها: أنت طالق إن شئت فقالت: شئت يقع ويختص بالمجلس، كذا في التهذيب."

(كتاب الطلاق، الباب الثالث في تفويض الطلاق، الفصل الثالث في المشيئة، ج:1، ص:404، ط: دار الفكر)

وفيه أيضاً:
"ولو قال: إن شئت فأنت طالق فقالت: نعم أو قبلت أو رضيت لا يقع."

(كتاب الطلاق، الباب الثالث في تفويض الطلاق، الفصل الثالث في المشيئة، ج:1، ص:404، ط: دار الفكر)

المبسوط للسرخسي میں ہے:"لأن من التعليقات ما يقتصر على وجود الشرط في المجلس كقوله لها: أنت طالق إن شئت، يقتصر على وجود المشيئة في المجلس."

(ج:5، ص:19، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100575

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں