بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ربیع الثانی 1448ھ 27 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قتل عمد میں قصاص سے مال صلح مقدار


سوال

دو دوست تھے، کسی بات پر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں ایک نے دوسرے کو گولی مار کر قتل کردیا، مقتول کے ورثاء نے قاتل اور اس کے ساتھ چار لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی، جو کہ قاتل کے رشتہ دار ہیں لیکن ان لوگوں نے قتل میں کوئی سہولت کاری نہیں کی تھی، اب دونوں فریق صلح کے لیے تیار ہیں، اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ  شرعاً صلح کی کتنی رقم مقرر ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  قتل عمد سے صلح کی صورت میں شریعت نے رقم کی کوئی متعین مقدار  مقررنہیں کی  ہے،اس معاملہ کو فریقین کی  باہمی رضامندی پرچھوڑ دیا ہے، لہذا صلح کی صورت میں فریقین مال کی جتنی مقدار پرراضی ہوجائیں، اتنی ہی مقدارقاتل پرمقتول کے ورثاء کو دینی لازم ہوتی ہے،لہذا صورت ِ مسئولہ میں اگر فریقین صلح پرراضی ہیں ،تواس میں قاتل کی مالی حیثیت کوسامنے رکھ کرکوئی ایسی مقدارمتعین کرلی جائے کہ جس کووہ ادابھی کرسکے اورآئندہ کے لئے اس کوعبرت بھی حاصل ہو۔
ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے :
" (ويسقط القود بموت القاتل) لفوات المحل (ويعفو الأولياء ويصالحهم على مال ولو قليلا، ويجب حالا) عند الإطلاق (وبصلح أحدهم وعفوه، ولمن بقي) من الورثة (حصته من الدية) في ثلاث سنين على القاتل هو الصحيح، وقيل على العاقل ملتقى.
(قوله ويسقط القود بموت القاتل) ولا يجب للمولى شيء من التركة قهستاني، وكذا يسقط فيما دون النفس كما هو ظاهر أفاده الرملي، وقدمنا آنفا أنه يسقط أيضا لو تلفت يد القاطع لآفة أو ظلما لا لو بحق (قوله ولو قليلا) بخلاف الخطأ فإن الدية مقدرة شرعا والصلح على أكثر منها ربا. وأما القصاص فليس بمال فكان التقويم بالعقد فيقوم بقدر ما أوجبه الصلح قل أو كثر معراج، وبه ظهر أن الظاهر أن يقول ولو كثيرا ليكون إشارة إلى الفرق بين الخطإ والعمد تدبر (قوله ويجب حالا عند الإطلاق)؛ لأنه ثبت بعقد والأصل في مثله الحلول كثمن ومهر حموي، وأشار بقوله عند الإطلاق إلى أنه لا يتأجل إلا بالشرط أفاده البدر العيني آخر فصل الشجاج ط (قوله وقيل على العاقلة) جرى عليه في الاختيار وشرح المجمع، ورده محشيه العلامة قاسم بما في الأصل والجامع الصغير والمبسوط والهداية والكافي وسائر الكتب أنه على القاتل في ماله."
(کتاب الجنایات، باب القود فیما دون النفس، ج : 6، ص: 556، ط : سعید)
فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144804100535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں