مسجد کے وائی فائی اور بجلی کا ذاتی استعمال
سوال
ہماری مسجد میں کمیٹی نے امام صاحب کے لیے اور مسجد کے دفتری کاموں کے لیے انٹرنیٹ (وائی فائی) کا کنکشن لگوایا ہے، جس کا بل مسجد کے چندے سے ادا ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا پاسورڈ نمازیوں، مکتب کے بڑے بچوں اور مسجد کے قریب رہنے والے بعض لوگوں تک بھی پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح کئی نمازی نماز کے لیے آتے ہیں تو مسجد کی بجلی سے اپنے موبائل چارج کرتے ہیں، اور بعض لوگ اعتکاف یا لمبے وقت بیٹھنے کے دوران لیپ ٹاپ بھی چلاتے ہیں۔
دریافت یہ کرنا ہے کہ:
1۔نمازیوں اور محلے والوں کا مسجد کا وائی فائی ذاتی استعمال میں لانا شرعاً کیسا ہے؟
2۔مسجد کی بجلی سے موبائل یا لیپ ٹاپ چارج کرنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کمیٹی اجازت دے دے تو کیا حکم بدل جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ مسجد کے چندے سے حاصل کی گئی اشیاء اور سہولیات انہی مصارف میں استعمال کی جائیں گی جن کے لیے چندہ دیا گیا ہے، ان کا ذاتی استعمال نہ نمازیوں اور اہلِ محلہ کے لیے درست ہے، نہ مسجد کی کمیٹی یا متولی کو اس کی اجازت دینے کا اختیار ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں:
1۔مسجد کا انٹرنیٹ کنکشن جب امام صاحب اور مسجد کے دفتری کاموں کے لیے لیا گیا ہے اور اس کا بل مسجد کے چندے سے ادا ہوتا ہے، تو نمازیوں، مکتب کے بچوں اور محلے والوں کا اسے اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں۔ کمیٹی پر لازم ہے کہ پاسورڈ تبدیل کرکے کنکشن کو انہی کاموں تک محدود رکھے جن کے لیے لیا گیا ہے، اور جن حضرات نے اب تک استعمال کیا ہے وہ توبہ و استغفار کے ساتھ اندازے سے کچھ رقم مسجد کے فنڈ میں جمع کرا دیں۔
2۔ نماز، تلاوت، ذکر اور اعتکاف کے دوران مسجد کی روشنی، پنکھے وغیرہ استعمال کرنا درست ہے، لیکن مسجد کی بجلی سے موبائل یا لیپ ٹاپ چارج کرنا ذاتی استعمال ہے جس کی اجازت نہیں، معتکف کا بھی یہی حکم ہے؛ جس شخص نے چارج کیا ہو وہ استعمال شدہ بجلی کے بقدر رقم مسجد کے فنڈ میں جمع کرائے۔ کمیٹی کی اجازت سے یہ حکم تبدیل نہیں ہوگا، البتہ اگر چندہ دینے والے حضرات چندہ دیتے وقت صراحت کر دیں کہ ان کی رقم نمازیوں کی ان ضروریات میں بھی صرف کی جا سکتی ہے، تو اس صورت میں چارج کرنے کی گنجائش ہوگی۔
البحر الرائق میں ہے:
"وفي الإسعاف وليس لمتولي المسجد أن يحمل سراج المسجد إلى بيته ولا بأس بأن يترك سراج المسجد فيه من المغرب إلى وقت العشاء ولا يجوز أن يترك فيه كل الليل إلا في موضع جرت العادة فيه بذلك كمسجد بيت المقدس ومسجد النبي ﷺ والمسجد الحرام"
(کتاب الوقف، فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج: 5، ص: 270، ط: دار الكتاب الإسلامي)
الفتاوى الهندية میں ہے:
"متولي المسجد ليس له أن يحمل سراج المسجد إلى بيته وله أن يحمله من البيت إلى المسجد، كذا في فتاوى قاضي خان... ولو اشترى القيم بغلة المسجد ثوبا ودفع إلى المساكين لا يجوز وعليه ضمان ما نقد من مال الواقف، كذا في فتاوى قاضي خان"
(کتاب الوقف، الباب الحادي عشر في المسجد وما يتعلق به، الفصل الثاني، ج: 2، ص: 462، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"شرط الواقف كنص الشارع، أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به"
(کتاب الوقف، ج: 4، ص: 433، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

