بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے کنائی الفاظ بولنے میں طلاق کی نیت کے بارے میں شکوک و شبہات ہوں تو شرعی حکم


سوال

 کسی نے اپنی بیوی سے گھر جاتے ہوئے کہا کہ” پیٹ کو بھر کر(حاملہ ہوکر) آنا، تو بیوی نے کہا: کسی اور کے پاس سوکر آؤں گی، تو شوہر نے کہا اب مت آنا ۔“

یہ الفاظ بولتے وقت شوہر کی طلاق کی نیت تھی یا نہیں یہ تو اُس (شوہر) کو معلوم نہیں، لیکن جب اس نے غور کیا تو اس کو اولاًیہی غالب گمان ہوا کہ نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں اور سوچا تو یہ ذہن میں آیا کہ کہیں نیت نہ ہوگئی ہو، اس کا کیا حکم ہے؟  اصل بات یہ ہے کہ پہلے اس نے سوچنے کے بعد منع کر دیا، بعد میں سوچا تو کہنے لگا معلوم نہیں کہ نیت تھی یا نہیں، اگر اس کی نیت ہوگئی ہو اور اس کو یاد نہیں تو اس کا نکاح برقرار ہے یا نہیں اور اللہ کے یہاں کیا ہوگا اس کو یہ چیز پریشان کررہی ہے۔

جواب

صورت مسئولہ  میں جس شخص نے اپنی بیوی کو سوال میں  مذکور خط کشیدہ الفاظ بولےہیں، اگر واقعۃًشوہر کی نیت طلاق کی نہیں تھی، تو کسی قسم کی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے، نیت کے بارے میں شوہر کے شکوک و شبہات سے نکاح پر کوئی اثر واقع نہیں ہوگا۔تاہم میاں بیوی کے مابین یہ گفتگو شرم و حیا کے منافی ہے لہذا  دونوں اِس پر توبہ استغفار کریں اورآئندہ اِس قسم کی بےہودہ اور غیرمہذب گفتگو سے اجتناب کریں۔

فتاوی درالعلوم دیوبند(مدلل و مکمل) میں ہے:

”بلانیت غصہ میں کہا میرے مکان مت آنا مجھ سے قطع تعلق، کیا حکم ہے

سوال(۵۱۸) زید اور زوجہ کے تکرار ہوجانے پر زوجہ بلااجازتِ زید والد کے گھر چلی جائے اور زید غصہ میں خوشدآمد سے یہ الفاظ کہے کہ میرے مکان پر اب زوجہ کو مت پہنچانا اور جو کچھ سامان تمہارا ہو اُس کو منگا لینا مجھ سے قطع تعلق ، لیکن زید کے دل میں یہ خیال بھی نہیں ہے کہ زوجہ کو طلاق ہوجاوے، اس صورت میں نکاح باقی رہا یا ٹوٹ گیا؟

الجواب:- اس صورت میں  موافق بیان زید کے کہ نیت اس کی طلاق کی نہ تھی اُس کی زوجہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی۔ درمختار میں تصریح ہے کہ اُن الفاظ سے جو قطع تعلق پر دال ہیں،ا گرچہ حالتِ غصہ میں سرزد ہوں بدونِ نیت کے طلاق واقع نہیں ہوتی۔“

(کتاب طلاق، جلد نہم، ص:۴۳۷، :مکتبہ دارالعلوم دیوبند)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: لا تطلق بها إلا بنية أو دلالة الحال) أي لا تطلق بالكنايات قضاء إلا بإحدى هذين لأنها غير موضوعة للطلاق بل موضوعة لما هو أعم منه."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات في الطلاق، ج:3، ص:322، ط:دار الكتاب الإسلامي)

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"اليقين ‌لا ‌يزول ‌بالشك نعم لأن اليقين القوي أقوى من الشك فلا يرتفع اليقين القوي بالشك الضعيف، أما اليقين فإنما يزول باليقين الآخر."

(ج:1، ص:22، ط:دارالجيل)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100519

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں