بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض پر نفع لینا ایک باطل حیلہ اور اس کاحکم

سوال

میں جہاں ملازمت کرتا ہوں،وہاں میرے باس کو پیسوں کی ضرورت تھی ، تو میں نے آدھا کلو چاندی اپنے باس کے پاس رکھوادی البتہ میں نے اسے یہ کہا کہ آپ مجھے چاندی کے ساتھ کچھ اوپر مزید رقم بھی دیں گے ، کیوں کہ میں نےBC ڈالی ہے ،اس لئے مجھے رقم کی ضرورت پڑے گی ، لہذا اس چاندی کے ساتھ کچھ رقم مزید بھی   دینی ہوگی ، لیکن جب میں نے یہ مسئلہ ایک مفتی صاحب سے معلوم کیاتو انہوں نے کہا یہ ناجائز ہے۔ اب پھرمیں نے  یہ بات اپنے باس کو بتائی تو وہ  مجھے لے کر ایک اور شخص کے پاس چلے گئے ، اور انہیں اس معاملے سے آگاہ کر دیا ۔ چناں چہ اس تیسرے شخص نےکہا آپ اس کے پاس چاندی بطور ادھار رکھوائیں، میں آپ کو اس پر مزیدرقم بطور ہدیہ دوں گا . اب آیا یہ صورت کا شرعاً درست ہے؟

وضاحت: هدیہ کی یہ رقم مجھے میرے باس ہی دیں گے۔

جواب

واضح رہے کہ  ہر وہ قرض یا ادھار کا معاملہ جو اپنے ساتھ کسی بھی قسم کا مشروط نفع، اضافی رقم یا فائدہ کھینچ کر لائے، وہ بالاتفاق سود (ربا) کے حکم میں آتا ہے۔

صورت مسئولہ میں چونکہ ہدیہ کے نام سے ملنے والی رقم درحقیقت باس(افسر،سربراہ ،نگران) ہی دیں گے اور یہ رقم ادھار کے معاملے ہی کی وجہ سے دی جا رہی ہے، اس لیے یہ ہدیہ نہیں بلکہ بعینہ وہی سودی اضافہ ہے جسے پہلے مفتی صاحب نے ناجائز قرار دیا تھا۔ فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ سودی معاملے میں کسی تیسرے شخص (ثالث) کو درمیانی راستہ بنا کر زائد رقم وصول کرنا سود خوروں کا ایجاد کردہ باطل حیلہ ہے اور سخت نا جائز ہے۔

"عن عمارة الهمداني قال: سمعت عليًّا رضي الله عنه يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل قرض جر منفعة فهو ربا".

( أخرجه الحارث في مسنده كما في المطالب العالية:«باب الزجر عن القرض إذا جر منفعة» (7/ 326) برقم (1440)،ط. ار العاصمة، دار الغيث – السعودية، الطبعة: الأولى، 1419.)

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج: 5،ص: 166،ط. سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقال بعضهم: هي أن يدخلا بينهما ثالثا فيبيع المقرض ثوبه من المستقرض باثني عشر درهما ويسلمه إليه ثم يبيعه المستقرض من الثالث بعشرة ويسلمه إليه ثم يبيعه الثالث من صاحبه وهو المقرض بعشرة ويسلمه إليه، ويأخذ منه العشرة ويدفعها للمستقرض...وقال محمد: هذا البيع في قلبي كأمثال الجبال ذميم اخترعه أكلة الربا."

(کتاب البیوع،باب الصرف،مطلب مسائل في المقاصة،ج:5،ص: 273،ط: سعید)

 فيض الباري على صحيح البخاري میں ہے:

 "قال النسفي في «الكافي» عن محمد بن الحسن، قال: ليس من أخلاق المؤمنين الفرار عن أحكام الله تعالى بالحيل الموصلة إلى إبطال الحق."

(كتاب الحيل، باب فى ترك الحيل،ج:6،ص: 418،ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100516
تاریخ19-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں