بیٹی کا دکان والدہ کے نام کرنا اور اپنا زیور والدہ کو استعمال کے لیے دے کر پھر اس کا مطالبہ کرنے کا حکم
سوال
میرے پاس میری بیٹی کی ایک دکان تھی جو اس نے اپنے پیسوں سے خریدی تھی(سائلہ کی کوئی رقم اس میں نہیں تھی)، چوں کہ اس وقت میری بیٹی کا شناختی کارڈ نہیں تھا، اس لیے اس نے وہ دکان میرے نام کی تھی، گھریلو پریشانی ( لڑائی کی وجہ سے والدہ نے ناراض ہوکر) کی وجہ سے میں نے وہ دکان بیٹے کے نام کردی، حالاں کہ بیٹے کو بھی معلوم تھا کہ یہ دکان میری بیٹی کی ہے، اسی طرح میری بیٹی کا زیور بھی تھا جو اس نے مجھے یہ کہہ کر دیا تھا کہ جب تک میں زندہ رہوں اس کو استعمال کروں اور بعد میں اس کو واپس مل جاۓ، وہ زیور بھی میں نے بیٹے کو اس کی شادی پر دے دیا، اب میری بیٹی وہ زیور مجھ سے مانگ رہی ہے، اس حوالے سے میرے بیٹے کو تمام گھر والوں کے سامنے بٹھا کر ان سے پوچھا گیا، تو اس نے اس بات کا اقرار کرتے ہوۓ کہا کہ میں یہ زیور ایک دو دن میں دے دوں گا، لیکن دو دن کے بعد وہ منع کررہا ہے، مجھ سے غلطی ہوچکی ہے کہ اپنی بیٹی کی اجازت کے بغیر اس کا زیور بیٹے کو دیا، کیونکہ زیور میری بیٹی کا امانت تھا۔
اب سوال یہ ہےکہ میری بیٹی دونوں چیزیں ( دکان اور زیور) واپس مانگ رہی ہے(یہ دونوں اس کے پیسوں سے خریدے گئے ہیں اس میں کسی کی طرف سے کوئی روپیہ نہیں ہے)، اور میں یہ دونوں چیزیں واپس کرکے اپنی آخرت سنوارنا چاہتی ہوں تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
وضاحت: یہ دکان بیٹی کی ہے اس نے اپنے کاروبار کے پیسوں سے خریدی تھی لیکن اب یہ دکان بیٹے کے پاس ہے اور وہ اس کو چلا رہا ہے، نیز جو زیور والدہ نے بیٹے کو دیا تھا وہ اب بھی اس کے پاس ہے لیکن دے نہیں رہا۔
جواب
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ دکان سائلہ کی بیٹی کی تھی اور بیٹی نے شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے سائلہ یعنی والدہ کے فقط نام کی تھی تو یہ دکان سائلہ کی ملکیت شمار نہیں ہوگی، سائلہ کے لیے مذکورہ دکان اپنے بیٹے کے نام کرنا ہی جائز نہیں تھا، اسی طرح مذکورہ زیور جو بیٹی نے والدہ کو فقط استعمال کے لیے دیا تھا تو مذکورہ زیور بھی سائلہ کی ملکیت نہ تھا ،لہٰذا سائلہ کے لیے یہ زیور بیٹے کو دینا جائز نہ تھا، اب جب بیٹی اپنی دکان اور زیور کا مطالبہ کررہی ہے تو سائلہ پر دونوں چیزیں بیٹی کو واپس لوٹانا لازم ہے ، سائلہ اپنے بیٹے سے دونوں چیزیں واپس لے کر بیٹی کو لوٹاۓ گی تو بری الذمہ ہوجاۓ گی، نیز جب بیٹے کو معلوم ہے کہ مذکورہ دکان اور زیور والدہ کا نہیں بلکہ بہن کا ہے تو اس کا ان دونوں چیزوں کو قبضہ میں رکھنا جائز نہیں ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُوٓاْ أَمۡوَٰلَكُم بَيۡنَكُم بِٱلۡبَٰطِلِ (سورة النساء: [29] ) "
ترجمہ: "اے ایمان والو! آپس میں ایك دوسرے كے مال ناحق طور پر مت كھاؤ (از بيان القرآن)"
مشكاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين»."
(كتاب البیوع، باب الغصب والعاریة، ص: 254، ط: قديمي)
ترجمه: "سعيد بن زيدؓ كهتے هيں كه رسول الله ﷺ نے فرمایا جوشخص ( كسی كی ) بالشت بھر زمین ازراہ ظلم لے گا قیامت كے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس كے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی ۔(مظاهرحق)"
النتف فی الفتاویٰ میں ہے:
"والعارية امانة في يد المستعير."
(كتاب العارية، انواع العارية من حيث الاجل، ج: 2، ص: 583، ط: مؤسسة الرسالة )
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:
"الملك هو تمكن الإنسان شرعا بنفسه أو بنيابة من الانتفاع بالعين أو بالمنفعة ومن أخذ العوض، أو تمكنه من الانتفاع خاصة."
(ملك، ج: 39، ص: 31، ط: دارالسلاسل)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

