بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 05 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

لڑکی والوں کے گھر فوتگی کی وجہ سے شادی کو فوتگی کے لمبے عرصہ تک مؤخر کرنا

سوال

 میں نے اپنی منگیتر کو یہ جملےکہے  ہیں:

(1) اگر میری یہ خواہش ختم ہوئی تو شادی کے بعد یہ نہ کہنا کہ ایسا کیوں ہے، وجہ تم کو ابھی سے معلوم ہونی چاہیے۔ شادی کے بعد پھر خواہش نہیں جاگے گی، صرف گال پر پیار اور گلے ملنا ہوگا، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

(2) عورت کا اپنا شوہر اگر مر جائے تو عورت تین حیض کے بعد دوسری شادی کر سکتی ہے، یہ عدت ہوتی ہے۔ یہ تو پھر آپ کا بھائی تھا، اسلام میں غم صرف تین دن ہے اور میں تو سات مہینے بعد شادی کرنے کو کہہ رہا ہوں، ساتھ مہینے کم وقت ہے کیا؟

(3) عورت کا شوہر مر جائے تو تین یا چار مہینے، اس طرح کچھ وقت کے بعد مجھے وقت معلوم نہیں، دوسری شادی کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ شادی تو ہوگی اسی سال، اگر کوئی خفا ہوتا ہے یا خوش۔ ابھی تک تو میں کہہ رہا تھا کہ گانے بجانے نہیں ہوں گے، لیکن ان باتوں کی وجہ سے قصداً اب میں گانے بجانے، شور شرابے اور خوشی دھوم دھام سے کروں گا، اور اگر تمہارے والدین اس شادی میں مزید تاخیر کریں گے تو میں کسی اور سے شادی کر لوں گا، اور میرے والدین سے بات ہو چکی، اس پر وہ بھی اس دوسری جگہ شادی پر راضی ہیں۔

میری منگیتر کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، تو اس نے اور اس کے گھر والوں نے اس سال شادی کرنے کی بات کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہم غم میں ہیں اور لوگ کیا کہیں گے، تو میں نے اپنے گھر والوں اور منگیتر سے کہا کہ شادی تو اسی سال ہر حال میں ہوگی، ورنہ پھر کبھی نہیں، پھر ساری عمر غم کرو، اور یہ بات کئی دفعہ کئی دن بار بار کہی ہے کہ اسی سال ورنہ نہیں۔

1۔ مجھے بتائیں کہ میرے ان جملوں کی وجہ سے کچھ لازم تو نہیں آتا ؟ کہیں ایلاء  اور حرام و حلال کا مسئلہ تو نہیں بنا؟

2۔  تو کیا اب شادی اسی سال کرنا لازم ہے؟

3۔ ساتھ میں یہ بھی بتا دیں کہ میں اس شادی کو کتنا عرصہ ان کے لیے لیٹ کرلوں، اخلاقی اور شرعی لحاظ سے؟

جواب

1۔ صورتِ مسئولہ میں آپ نے جو اپنی منگیتر کو جملے کہے ہیں، ان جملوں کی وجہ سے کچھ لازم نہیں آتا اور نہ  ہی کوئی ایلاء یا حلال حرام کا مسئلہ بنا ہے۔

2۔آپ پر اسی سال شادی کرنی لازم نہیں ہے، دونوں خاندانوں کی سہولت  و آسانی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، جب چاہیں کر سکتے ہیں، اسی سال یا بعد میں۔

3۔واضح رہے کہ میت کی فوتگی پر تین دن سوگ منانا واجب نہیں،  بلکہ جائز ہے، بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے منقول ہے کہ مردوں کی تدفین اور تعزیت کرنے والوں کو رخصت کرکے حسبِ معمول اپنے کام کاروبار میں مشغول ہوجاتے تھے، اس لیے  گھر کے کسی   فرد کے فوت ہونے کی وجہ سے اسی دن یا ایک دو دن بعد  نکاح کرنے کی کوئی ممانعت شریعتِ مطہرہ میں وارد نہیں ہوئی ہے،(سوائے اس عورت کے جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کے لیے چار ماہ دس دن  تک کسی سے نکاح یا پیغام نکاح کی اجازت نہیں ہے، اور اس دوران اس کے لیے سوگ ہے)   لہٰذا فوتگی کے بعد موقع محل کے حساب سے نکاح  یا شادی کی جا سکتی ہے،  البتہ اگر فوت ہونے والا  دولہا یا دلہن   کا کوئی قریبی عزیز ہو اور وہ اس کی وجہ سے زیادہ غم و پریشانی کی وجہ سے نڈھال ہو تو اس کی طبیعت اور نشاط کی بھی رعایت کرنی چاہیے، اور اسے بھی چاہیے کہ وہ شرعی دائرے میں رہ کر غم منائے۔  البتہ شوہر کے علاوہ کسی بھی رشتے دار کی وفات پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا قطعاً درست نہیں ہے، اس لیے تین دن سے زیادہ اپنے ارادے سے غم بڑھانے کے اسباب بھی نہ اختیار کیے  جائیں۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کی منگیتر  کے بھائی کے انتقال کو جب چھ سات مہینے گزر چکے ہیں، تو آپ شادی کر سکتے ہیں، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ہے،  آپ کے سسرال کو چاہیے کہ فوتگی کے چھ سات مہینے گزر جانے کے بعد گھر میں سوگ وغیرہ کا ماحول نہ بنائیں، جب اتنا وقت گزر چکا ہے تو اپنی بچی کی شادی کروا دیں، لوگوں کی وجہ سے کہ لوگ کیا کہیں گے اپنی بیٹی کی شادی میں تاخیر نہ کریں، کیوں کہ بیٹی کے شادی کے قابل ہو جانے کے بعد اس کی شادی میں بلاوجہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے، چہ جائیکہ  لڑکے والے شادی کرنے کے لیے تیار بھی ہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و روى الحسن بن زیاد إذا عزى أهل المیت مرةً فلاینبغي أن یعزیه مرةً أخرى، كذا في المضمرات. و وقتها من حین یموت إلى ثلاثة أیام و یکره بعدها إلا أن یکون المعزى أو المعزى إلیه غائبًا فلا بأس به."

(هندیه ج:1 ص:167،کتاب الصلاة، الباب الحادي و العشرون، الفصل السادس، ط:مکتبه رشیدیه)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100485
تاریخ05-11-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں