
مجھے ٹائپ ون ذیابیطس (Type 1 Diabetes) ہے۔ ڈاکٹر نے میرے جسم پر ایک انسولین پمپ لگایا ہوا ہے، جو ایک باریک نلکی کے ذریعے جلد کے نیچے مسلسل تھوڑی تھوڑی مقدار میں انسولین پہنچاتا رہتا ہے۔ اسی طرح میرے بازو پر ایک شوگر سینسر لگا ہوا ہے، جو جلد کے نیچے موجود ایک باریک تار کے ذریعے مسلسل خون میں شوگر کی مقدار کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ یہ دونوں آلات دن رات جسم کے ساتھ لگے رہتے ہیں اور ڈاکٹر کے مطابق انہیں روزے کے دوران الگ کرنا مناسب نہیں۔
میں رمضان کے علاوہ ہفتے میں بعض دن نفلی روزے بھی رکھتا ہوں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا میں روزے کی حالت میں انسولین پمپ اور شوگر سینسر جسم کے ساتھ لگائے رکھ سکتا ہوں؟ کیا ان دونوں آلات کا روزے کی حالت میں مسلسل لگا رہنا یا پمپ کے ذریعے جلد کے نیچے مسلسل انسولین کا پہنچنا روزے کو فاسد کرتا ہے؟ نیز کیا مذکورہ آلات کے ساتھ ہفتہ وار نفلی روزے رکھنا شرعاً درست ہے؟
براہ کرم فقہ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں روزے کی حالت میں انسولین پمپ اور شوگر سینسر جسم کے ساتھ لگائے رکھنا جائز ہے، پمپ کی نلکی اور سینسر کے تار کا جلد کے نیچے موجود رہنا اور پمپ کے ذریعے جلد کے نیچے مسلسل انسولین پہنچتے رہنا روزے کو فاسد نہیں کرتا، روزہ درست ہوگا۔ یہی حکم نفلی روزے کا بھی ہے، مذکورہ آلات لگے ہوئے ہونے کی حالت میں ہفتہ وار نفلی روزے رکھنا شرعاً درست ہے۔
صحيح البخاري میں ہے:
"وقال ابن عباس وعكرمة: الصوم مما دخل وليس مما خرج".
(کتاب الصوم، باب الحجامة والقيء للصائم، ج:3، ص:33، ط: السلطانية)
تبيين الحقائق میں ہے:
"وأما إذا ادهن فلعدم المنافي، والداخل من المسام لا من المسالك لا ينافيه، كما لو اغتسل بالماء البارد ووجد برده في كبده".
(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:1، ص:323، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
البحر الرائق میں ہے:
"أي لا يفطر؛ لأن الادهان غير مناف للصوم، ولعدم وجود المفطر صورة ومعنى، والداخل من المسام لا من المسالك فلا ينافيه، كما لو اغتسل بالماء البارد ووجد برده في كبده".
(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:293، ط: دار الكتاب الإسلامي)
النهر الفائق میں ہے:
"لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ، للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر".
(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:17، ط: دار الكتب العلمية)
الفتاوى الهندية میں ہے:
"وما يدخل من مسام البدن من الدهن لا يفطر هكذا في شرح المجمع، ومن اغتسل في ماء وجد برده في باطنه لا يفطر".
(کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج:1، ص:203، ط: دار الفكر)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"قال في النهر: لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، والمفطر إنما هو الداخل من المنافذ، للاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر".
(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:395، ط: سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100482
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن