نابالغ بچے کا ولی کی اجازت کے بغیر ہدیہ میں ملا ہوا موبائل کم قیمت پر فروخت کرنا
سوال
میرے چودہ سالہ بیٹے کو اس کے چچا نے ایک قیمتی موبائل فون تحفے میں دیا تھا۔ اس نے میری اجازت کے بغیر وہ فون ایک آن لائن گروپ کے ذریعے ایک دکان دار کو بازار سے بہت کم قیمت پر بیچ دیا اور رقم دوستوں کے ساتھ خرچ کر دی۔ اس میں ابھی تک بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی۔
مجھے پتہ چلا تو میں دکان دار کے پاس گیا، لیکن وہ کہتا ہے کہ سودا ہو چکا ہے اور میں وہ فون آگے ایک اور گاہک کو بیچ چکا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ:
۱. کیا میرے بیٹے کا یہ سودا شرعاً درست ہوا؟
۲. کیا مجھے یہ سودا ختم کر کے فون یا اس کی قیمت واپس لینے کا حق ہے؟ جبکہ فون اب تیسرے شخص کے پاس ہے۔
جواب
1۔ صورتِ مسئولہ میں آپ کے بیٹے میں بلوغت کی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی اور اس کی عمر پندرہ سال مکمل نہیں ہوئی، لہٰذا وہ شرعاً نابالغ ہے۔ چچا نے جو موبائل ہدیہ کیا، اس پر آپ کے بیٹے نے سمجھ دار ہوتے ہوئے قبضہ کیا، اس لیے وہ موبائل اسی کی ملکیت ہے۔
نابالغ سمجھ دار بچے کا اپنی چیز فروخت کرنا ولی کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے۔ آپ نے اس سودے کی اجازت نہیں دی۔ مزید یہ کہ یہ موبائل بازار کی قیمت سے بہت کم پر بیچا گیا، جو غبنِ فاحش ہے، اور غبنِ فاحش والے سودے کی اجازت ولی بھی نہیں دے سکتا۔ لہٰذا آپ کے بیٹے کا یہ سودا شرعاً درست نہیں ہوا، اور دکان دار موبائل کا مالک نہیں بنا۔
2۔ دکان دار نے یہ موبائل آگے جس شخص کو بیچا، آپ کے رد کرنے سے یہ بیع بھی ختم ہوجاتی ہے۔ موبائل جس کے پاس بھی موجود ہو، آپ کو اس سے واپس لینے کا حق ہے۔
اگر موبائل تیسرے شخص کے پاس ضائع ہو چکا ہو تو آپ دکان دار اور اس خریدار میں سے جس سے چاہیں موبائل کی قیمت وصول کر سکتے ہیں۔ اگر آپ خریدار سے قیمت لیں تو وہ اپنی ادا کردہ رقم دکان دار سے واپس لے گا۔
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"وإذا باع الصبي وهو يعقل البيع عبدا من رجل بألف درهم وقبض الثمن ودفع العبد، ثم ضمن رجل للمشتري ما أدركه في العبد من درك فاستحق العبد من يد المشتري... وإن كان الصبي محجورا عليه فالضمان عنه باطل؛ لأنه غير مطالب بضمان الاستحقاق فالكفيل عنه التزم ما لا مطالبة عليه فيه فلهذا لا يجب على الكفيل شيء ولا على الصبي أيضا إن كان الثمن قد هلك في يده أو استهلكه؛ لأن فعله كان بتسليط صحيح من المشتري حين سلم الثمن إليه، وإن كان قائما بعينه في يده أخذه المشتري؛ لأنه وجد عين ماله."
(کتاب المأذون الکبیر، باب الإذن للصبي الحر والمعتوه، ج:25، ص:25، ط: دار المعرفة)
البحر الرائق میں ہے:
"وليس من شرائط العاقد البلوغ فانعقد بيع الصبي وشراؤه موقوفا على إجازة وليه إن كان شراؤه لنفسه ونافذا بلا عهدة عليه إن كان لغيره."
(کتاب البیوع، ج:5، ص:279، ط: دار الکتاب الإسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ومن البيع الموقوف بيع الصبي المحجور الذي يعقل البيع والشراء يتوقف بيعه وشراؤه على إجازة والده أو وصيه أو جده أو القاضي."
(کتاب البیوع، الباب الثاني عشر في أحكام البيع الموقوف، ج:3، ص:154، ط: دار الفکر)
وفیہ أیضاً:
"وإن قبضه الصبي وهو يعقل جاز، وإن كان أبوه حيا، كذا في الوجيز للكردري."
(کتاب الہبۃ، ج:4، ص:393، ط: دار الفکر)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(ومن عقد) عقدا يدور بين نفع وضر... (منهم) من هؤلاء المحجورين (وهو يعقله) يعرف أن البيع سالب للملك والشراء جالب (أجاز وليه، أو رد) وإن لم يعقله فباطل."
"(قوله: أجاز وليه) أي إن لم يكن فيه غبن فاحش، فإن كان لا يصح وإن أجازه الولي بخلاف اليسير، جوهرة."
(کتاب الحجر، ج:6، ص:145-146، ط: الحلبي)
وفیہ أیضاً:
"(بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال)... (فإن لم يوجد فيهما) شيء (فحتى يتم لكل منهما خمس عشرة سنة به يفتى)."
(کتاب الحجر، فصل بلوغ الغلام بالاحتلام، ج:6، ص:153، ط: الحلبي)
درر الحكام شرح مجلة الأحكام میں ہے:"لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي."
(المادۃ: 97، ج:1، ص:98، ط: دار الجيل)
وفیہ أیضاً:"بيع الفضولي إذا أجازه صاحب المال، أو وكيله، أو وصيه، أو وليه نفذ وإلا انفسخ."
(الکتاب الأول في البیوع، المادۃ: 378، ج:1، ص:403، ط: دار الجيل)
وفیہ أیضاً:
"أما إذا تلف في يد المشتري بعد القبض وقبل الإجازة فالمالك يضمن قيمته من شاء من البائع الفضولي، أو المشتري... فإن ضمن المشتري كان البيع باطلا وللمشتري حينئذ أن يرجع على البائع الفضولي بما دفع إليه من الثمن."
(المادۃ: 378، ج:1، ص:405، ط: دار الجيل)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

