بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1448ھ 23 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فون پر حاملہ بیوی کو تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم


سوال

مجھے اپنی بیوی سے فون پر بات کرتے ہوئے غصہ آگیا اور میں نے اسے فون پر ہی یہ الفاظ کہےکہ " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"،اس وقت میرے والد صاحب بھی فون پر میری بات سن رہے تھے، میری بیوی اس وقت حاملہ تھی اور حمل کا چوتھا مہینہ چل رہا تھا،ازراہِ کرم یہ بتائیں کہ کیا مذکورہ صورتِ حال میں ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں   سائل  نے جب  اپنی بیوی کو فون پر  یہ الفاظ کہے کہ   " میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"، تو ان الفاظ سے سائل  کی بیوی پر تینوں  طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ    شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ،اب شوہر  (سائل ) کے لیے رجوع کرنا  یا تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہنا جائز  نہیں ہے ۔ مطلقہ عورت اپنی عدت (حاملہ   عورت کی  عدت وضعِ حمل یعنی بچے کی پیدائش ہے)گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

ارشادِ ربانی ہے:

﴿فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا اَنْ یَّتَرَاجَعَا اِنْ ظَنَّا اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ ؕ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ[البقرة: 230]

"ترجمہ :پھر اگر کوئی (تیسری) طلاق دیدے عورت کو تو پھر وہ اس کے لیے حلال نہ رہے گی اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے سوا ایک اور خاوند کے ساتھ (عدت کے بعد) نکاح کرے پھر اگر یہ اس کو طلاق دیدے تو ان دونوں پر اس میں کچھ گناہ نہیں کہ بدستور پھر مل جاویں بشرطیکہ دونوں غالب گمان رکھتے ہوں کہ (آئندہ) خداوندی ضابطوں کو قائم رکھیں گے اور یہ خداوندی ضابطے ہیں حق تعالیٰ ان کو بیان فرماتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں ۔ ( ترجمہ از  بیان القرآن)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير."

(كتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة...،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج: 1،ص: 473، ط:رشیدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث."

 (کتاب الطلاق، ج:3، ص:233، ط: سعید)

تحفۃ الفقہاء میں ہے:

"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة ،وفي حق الآيسة والصغيرة والتي لا تحيض بعد ثلاثين سنة ثلاثة أشهر إذا كان بعد الدخول بها أو بعد الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح لأنها توجب كمال المهر فتوجب كمال العدة بطريق الأولى احتياطا.....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن}."

(كتاب الطلاق، باب العدة،ج:2، ص:245/244، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144804100471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں