بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گاڑی میں بچہ کے مرجانے کی وجہ سے دیت کس پر ہوگی؟

?سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی گاڑی گھر میں موجود تھی ، بچے حسب عادت اس میں کھیل رہے تھے، زید نے بچوں کو موٹر سے  دور کیا اور ان سے پوچھا کہ موٹر میں کوئی موجود تو نہیں ہے، انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، کوئی نہیں ہے، اس نے موٹر کے دروازے لاک  کردیے۔ كچھ وقت گزرنے کے بعد پتہ چلا کہ ایک بچہ وہاں موٹر میں موجود تھا اور انتقال کرگیا۔ سوال یہ ہے کہ: 

1. اب اس قتل کی ذمہ داری زید پر ہے یا نہیں؟

2.  اگر ہے تو کون سا قتل ہے؟

3.زید کے ذمہ پر کیا لازم ہے؟

وضاحت: جس نے گاڑی لاک کی بچہ اس کا نہیں تھا، اس کا کوئی رشتہ دار تھا۔ ظہر میں گاڑی لاک کی اور عصر میں بچہ مر گیا تھا۔

✓جواب

 صورت مسئولہ میں زید نے جب یہ سمجھ کر اپنی گاڑی لاک کی کہ اندر کوئی نہیں ہے  تو زید پر نہ دیت واجب ہوگی نہ کفارہ واجب ہوگا کیونکہ  زید کی طرف سے اس معاملہ میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں تھی، گاڑی زید کی اپنی مملوکہ چیز تھی، اس کو لاک کرنے کا اختیار زید کے پاس تھا اور زید نے گاڑی کو خالی سمجھ کر بند کیا تھا، باقی زید آئندہ گاڑی لاک کرنے سے پہلے اندر خود دیکھ لیا کرے، اور جو معمولی کوتاہی ہوئی ہےاس پر توبہ استغفار کرے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:
"صبي مات في الماء أو سقط من السطح فمات، فإن كان ممن يحفظ نفسه لا شيء على الأبوين، وإن كان ممن لا يحفظ نفسه فعليهما الكفارة إن كان في حجرهما، وإن كان في حجر أحدهما فعليه الكفارة هكذا عن نصير، وعن أبي القاسم في الوالدين إذا لم يتعاهد الصبي حتى سقط من سطح ومات، أو احترق بالنار لا شيء عليهما إلا التوبة والاستغفار، واختيار الفقيه أبي الليث - رحمه الله تعالى - على أنه لا كفارة عليهما، ولا على أحدهما إلا أن يسقط من يده والفتوى على ما اختاره أبو الليث - رحمه الله تعالى - كذا في الظهيرية وهو الصحيح كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الجنایات، باب تاسع، ج:،6،ص:33، دار الفکر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:
"بنت ست سنين حمت، وكانت جالسة إلى جنب النار فخرجت الأم بعد خروج الأب إلى بعض الجيران فاحترقت الصبية، فماتت لا دية على الأم لكن إذا كان لها مال يعجبني أن تعتق رقبة مؤمنة، وإلا صامت شهرين متتابعين، وتكون على تأسف وندامة واستغفار لعل الله يعفو عنها، وهذا استحباب والكلام في وجوب الكفارة ما مر كذا في الظهيرية."

(کتاب الجنایات، باب تاسع، ج:،6،ص:33، دار الفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"وكذا الأصل أيضا أن المتسبب ضامن إذا كان متعديا، وإلا لا يضمن والمباشر يضمن مطلقا، كما يظهر من الفروع رحمتي."

(کتاب الجنایات، ج:6،ص:602،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144804100457
تاریخ06-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں