
میری شادی 2009 میں ہوئی، اب ایک سال سے میری بیوی اپنے بھائی کے گھر ہے، دو ماہ پہلے میرے پاس خلع کے کاغذات آئے، جن میں یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہے، مجھے اس بارے میں نہ کوئی علم ہے، نہ عدالت نے میرے پاس کوئی نوٹس بھیجا ہے، اور نہ ہی میں نے ان کاغذات پر کوئی دستخط کیا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ یکطرفہ خلع کا فیصلہ معتبر ہے یا نہیں؟ اور کیا ہمارے درمیان طلاق واقع ہوچکی ہے؟ شریعت کی رو سے میری مکمل راہ نمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ عدالتی تنسیخ نکاح کے لیے شرعاً یہ ضروری ہے کہ عورت جن شرعی وجوہات کی بنیاد پر اپنا نکاح فسخ کروانا چاہتی ہے ان وجوہات کو وہ عدالت میں شرعی گواہوں( دو مرد یا ایک مرد و دوعورتوں) کے ذریعہ ثابت بھی کرے، اگر وہ اپنا دعوی شرعی گواہوں سے ثابت نہ کرے تو پھر دعوی قابلِ قبول نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی بنیاد پر نکاح فسخ کرنا جائز ہوتا ہے۔
لہذاصورت مسئولہ میں منسلکہ کاغذات جن کا عنوان: "تنسیخ نکاح بذریعہ خلع ہے" سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت نے شوہر کی جانب سے نامناسب رویہ اور تشدد کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا، جبکہ ان امور کو کسی شرعی شہادت سے ثابت نہیں کیا، نیز نہ ہی شوہر نے خلع کو قبول کیا اور نہ بعد میں اس فیصلہ پر رضامند ہوا، لہذا مذکورہ فیصلہ نہ شرعاً خلع ہےاور نہ تنسیخ نکاح،لہذا اس کی وجہ سے دونوں میں جدائی نہیں ہوئی، اس لیے دونوں کا نکاح قائم ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) نصابها (لغيرها من الحقوق سواء كان) الحق (مالا أو غيره كنكاح وطلاق ووكالة ووصية واستهلال صبي) ولو (للإرث رجلان) إلا في حوادث صبيان المكتب فإنه يقبل فيها شهادة المعلم منفردا قهستاني عن التجنيس (أو رجل وامرأتان) ..... (قوله لغيرها) أي لغير الحدود والقصاص وما لا يطلع عليها الرجال منح فشمل القتل خطأ والقتل الذي لا قصاص فيه لأن موجبه المال، وكذا تقبل فيه الشهادة على الشهادة وكتاب القاضي."
(كتاب الشهادات، ج: 5، ص: 465، ط: ایچ ایم سعید)
حیلۂ ناجزہ میں ہے:
"والمتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمیر ما نصه: إن منعھا نفقة الحال فلها القیام فإن لم یثبت عسرہ أنفق، أو طلق، وإلا طلق علیه، قال محشيه: قوله: وإلا طلق علیه، أي طلق عليه الحاکم من غیر تلوم ..... إلى أن قال: وإن تطوع بالنفقة قریب أو أجنبي، فقال ابن القاسم: لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها، وقال ابن عبدالرحمن: لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهى وهو الذی تقضيه المدونة، کما قال ابن المناصب، انظر الحطاب."
(فصل في حکم زوجة المتعنت، ص: 150، ط: دار الإشاعت كراتشي)
وفیہ أیضاً:
"اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت المسلمین کے سامنے پیش کرے، اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے، اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہیں دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جائے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعاً جو اس کے قائم مقام ہوطلاق واقع کردے، اس میں کسی مدت کے انتظار و مہلت کی باتفاق مالکیہ ضرورت نہیں۔"
(حکم زوجہ متعنت، ص: 73/72، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100454
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن