بیٹیوں کو ان کے حصہ سے محروم کرنا اور بیٹیوں کا اپنا شرعی حصہ معاف کرنے کا حکم
سوال
اکثر لوگ اپنی بیٹیوں کا حق میراث نہیں دیتے ہیں، اور اگر دے دیں تو بیٹیاں اپنا حق نہیں لیتی ہیں؛ کیوں کہ یہ ایک رسم سی بن گئی ہے، اسی وجہ سے جو عورت اپنا حق لے لے تو لوگ اسے عار سمجھتے ہیں کہ اپنے والد اور بھائیوں سے زمین لے لی، اس لیے عورتیں اپنا حق معاف کردیتی ہیں، تو کیا ان کی طرف سے یہ معاف کرنا درست ہے؟
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے ہر وارث کا حصہ متعین طور پر بیان کردیا ہے، اور تمام مسلمانوں کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ ترکہ کی تقسیم کے معاملہ میں کسی ایک وارث کی بھی حق تلفی نہ کی جائے، اور اسے اس کا شریعت کی طرف سے مقرر کردہ مکمل حصہ و حق ادا کیا جائے، کسی کی ایک بالشت زمین پر بھی ناحق قبضہ کرنے والے، یا وارث کو اس کے حصئہ میراث سے محروم کرنے والے کے لیے احادیث میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" جو شخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی "۔
ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
" جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا،(یعنی اس کا حصہ نہیں دے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا۔"
اور شریعت مطہرہ نے اس حقِ وراثت کو جبری حق قرار دیا ہے، یعنی اگر کوئی وارث اپنے حق کو معاف کرتا ہے یا اپنے حق سے بغیر کسی عوض کے دستبردار ہوجاتا ہے تو اس معافی یا دستبرداری سے اس وارث کا حق معاف(ختم) نہیں ہوتا بلکہ دیگر ورثاء کی طرح اس وارث کا حصہ اور حق اس کے باوجود بھی باقی رہتا ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر ترکہ کی تقسیم میں بعض ورثاءمرحوم کی بیٹیوں بہنوں کو ان کے شرعی حق سے کم دیتے ہیں یا انہیں بالکل محروم کردیتے ہیں تو ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اور ایسی صورت میں اگر مرحوم کی بہنیں اور بیٹیاں خاندانی رواج کی بناء پر اسے خاندانی عار سمجھتے ہوئےاپنے شرعی حق کو معاف کردیتی ہیں یا اپنے شرعی حصہ سے بغیر کسی عوض کے دستبردار ہوجاتی ہیں تو اس کے باوجود ان کا شرعی حصہ ختم نہیں ہوگا بلکہ ان کا شرعی حصہ بدستور باقی رہے گا، اور دیگر ورثاء کے ذمہ لازم ہوگا کہ ان کو ان کا شرعی حصہ ادا کردیں، اور اپنا حق و حصہ وصول کرنے کے باوجود بہنوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ صلح رحمی کی غرض سے اپنے والدین یا بھائیوں کے ہاں خبر گیری کے لیے جایا کریں۔ اسی طرح بہنوں بیٹیوں نے اگر اپنے حق کا مطالبہ کیا اور اپنا حق لے لیا تو ان سے واپس لینا واپس نہ کرنے اور مطالبہ کرنے پر ان سے ناراض ہونا بھی غلط روش ہے، اس رسم بد کا خاتمہ ضروری ہے۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
(کتاب البیوع، باب الغصب و العاریة، ج: 1، ص: 260، ط: مکتبة رحمانیة)
وفیہ أيضاً:
"وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة."
(کتاب الفرائض، باب الوصایا، ج: 1، ص: 272، ط: رحمانیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"والثالث إما اختياري وهو الوصية أو اضطراري وهو الميراث."
(كتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، ط: سعید)
العقود الدرية میں ہے:
"الإرث جبري لا يسقط بالإسقاط وقد أفتى به العلامة الرملي كما هو محرر في فتاواه من الإقرار نقلا عن الفصولين وغيره."
(كتاب الدعوى، ج: 2، ص: 43، ط: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

