بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی ایک وارث کی جدوجھد اور خرچ کردہ رقم سے چھڑائی گئی موروثی زمین میں دیگر ورثاء کے حق کا حکم


سوال

ایک بندے کی اسی نوے سال پرانی زمین کسی دوسرے شخص کے پاس تھی، والدین کا انتقال ہوگیا ہے، بیٹوں میں سے کسی نے بھی اس زمین کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی، اور نہ ہی اس میں کوئی دلچسپی لی۔

پھر ان میں سے ایک بیٹے نے اپنے خرچہ اور اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر جرگے اور قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد زمین حاصل کر لی ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوسرے بھائی جو زمین لینے کے حق میں نہیں تھے آیا وہ اس زمین کے حق دار ہوں گے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ والد کی ملکیتی جائیداد میں تمام وارث حق دار ہوتے ہیں چاہے اس جائیداد کے ملنے کی امید ہو یا نہ ہو، اور خواہ وہ جائیداد کسی ایک وارث کی کوشش اور محنت سے واپس حاصل ہوئی ہو۔

لہذا صورت مسئولہ میں والد مرحوم کی اسی نوے سال پرانی زمین جو کسی دوسرے شخص کے پاس تھی، جسے بیٹوں میں سے کسی نے قانونی چارہ جوئی کرکے حاصل کیا ہے، تو اب یہ زمین مرحوم کے تمام ورثاء میں وراثت کے شرعی ضابطہ کے مطابق تقسیم کی جائے گی، اگر چہ متروکہ زمین کے حصول میں دیگر ورثاء کو دلچسپی نہیں تھی؛ کیوں کہ وراثتی حق ایک ایسا حق ہے، جس سے دستبرداری شرعاً معتبر نہیں ہوتی، البتہ مذکورہ بیٹے نے قانونی کاروائی کرنے کے لیے جو اخراجات  کیے ہیں، مذکورہ اخراجات وراثتی حصہ کے تناسب سے تمام ورثاء پر تقسیم کیے جائیں گے، اس کے بعد مرحوم کی متروکہ زمین اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔

فتاوٰی تاتارخانیہ میں ہے:

"٢٩١٠٥: وفي الطحاوي: الأصل في هذا: أن كل من ملك شيئاً، إمامسلم، أو ذمي بأي سبب ملك، فإنه لا يزول ملكه بالترك."

(کتاب الشرب، الفصل الثانی، ج:18، ص:344، ط:مکتبة زکریا، دیوبند)

فتاوی شامی میں ہے:

" إن ‌الحق ‌لا ‌يسقط ‌بالتقادم كما في قضاء الأشباه."

(کتاب الخنثی، مسائل شتٰی، ج:6، ص:743، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" وصي أنفذ الوصية من مال نفسه قالوا: إن كان هذا الوصي وارثا يرجع في تركة الميت وإلا فلا يرجع وقيل: إن كانت الوصية للعباد يرجع؛ لأن لها مطالبا من جهة العباد وكان كقضاء الدين، وإن كانت الوصية لله تعالى لا يرجع وقيل: له أن يرجع في التركة على كل حال وعليه الفتوى."

(كتاب الوصايا، الباب التاسع في الوصي وما يملكه، ج:6، ص:154، ط:رشیدیة)

درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:

" وكذلك ‌بعض ‌الورثة ‌إذا ‌قضى ‌دين ‌الميت أو كفن الميت من مال نفسه أو اشترى الوارث الكبير طعاما أو كسوة للصغير من مال نفسه لا يكون متطوعا وكان له الرجوع في مال الميت."

(كتاب الوصايا، الباب الثاني في الإيصاء، ج:2، ص:452، ط:دار إحياء الكتب العربية)

الفقہ الإسلامی وأدلتہ میں ہے:

"التركة: ‌ما ‌يتركه ‌الميت مما كان يملكه من الأموال النقدية والعينية والحقوق. فلا يدخل في التركة الأمانات ونحوها مما لم يكن يملكه."

 (القسم السادس: الأحوال الشخصية، الباب السادس: الميراث، ج:10، ص:7701، ط:دار الفکر)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

" إذا احتاج الملك المشترك للتعمير والترميم فيعمره أصحابه بالاشتراك بنسبة حصصهم .... الخلاصة: إن نفقات الأموال المشتركة تعود على الشركاء بنسبة حصصهم في تلك الأموال حيث إن الغرم بالغنم."

(الكتاب العاشر الشركات، ‌‌الباب الخامس في بيان النفقات المشتركة، الفصل الأول في بيان تعمير الأموال المشتركة وبعض مصروفاتها الأخرى، ج:3، ص:310، ط:دار الجیل)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں