ایک بیوہ ، ایک بیٹا اور تین بیٹیوں کے درمیان ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ
?سوال
1.ایک مکان ہے جو کہ والد اور اس کی بیٹی کے درمیان مشترک ہے، اب مرحوم والد انتقال کرگئے ہیں ، اس کا حصہ مرحوم کے ورثاء میں تقسیم کرنا ہے۔
مرحوم کے ورثاء میں بیوہ ، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں، مرحوم کے والدین کا انتقال ان کی زندگی میں ہوچکا تھا۔
2.والد مرحوم کے مذکورہ ورثاء میں دو بیٹیاں اپنے والد مرحوم کے میراث سے تقسیم ہونے سے پہلے دیگر ورثاء کے حق میں دست بردار ہونا چاہتی ہیں ، کیا میراث تقسیم ہونے سے پہلے ان کا دست بردار ہونا شرعا درست ہے؟
اگر تقسیم سے قبل بغیر کسی عوض کے دست بردار ہونا درست نہیں ، تو کیا تقسیم کے بعد یا تقسیم سے قبل کوئی عوض لے کر دست بردار ہونا درست ہے؟
✓جواب
1۔صورت مسئولہ میں مرحوم کی میرا ث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحو م کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر ان کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ میں سے اسے نافذ کرنے کے بعد، باقی ماندہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 40 حصوں میں تقسیم کرکے پانچ حصے مرحوم کی بیوہ کو ، 14 حصے مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 7 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے :
مرحوم ۔۔۔40/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||
| 5 | 14 | 7 | 7 | 7 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے 12.5 فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 35 فیصد مرحوم کے اکلوتے بیٹے کو اور 17.5 فیصد مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
2. میراث تقسیم ہونے سے پہلے کسی وارث کا کچھ لئے بغیراپنے حصہ سے دست بردار ہونا شرعا درست نہیں ہے۔ البتہ میراث تقسیم ہونے اور اپنے حصہ پر قبضہ کرنے کے بعد وہ جس کو اپنا حصہ بغیر کسی دباؤ کے دلی خوشی و رضامندی سےدینا چاہیں دے سکتی ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنهر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثها عثمان - رضي الله تعالى عنه - ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير اهـ.... أنهم لو أخرجوا واحدا، وأعطوه من مالهم فحصته تقسم بين الباقي على السواء وإن كان المعطى مما ورثوه فعلى قدر ميراثهم قال الشارح هناك وقيده الخصاف بكونه عن إنكار فلو عن إقرار فعلى السواء اهـ فتأمله."
( كتاب الفرائض، باب المخارج، ج:6، ص: 811، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

