بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 فلیٹ کی فروختگی میں عمارت کے دیگر فلیٹ مالکان کا حقِ شفعہ

سوال

ہم ایک چھ منزلہ رہائشی عمارت میں رہتے ہیں جس میں کل بارہ فلیٹ ہیں۔ ہر فلیٹ کا الگ مالک ہے اور ہر ایک کے نام رجسٹری میں عمارت کی زمین کا غیر منقسم حصہ بھی درج ہے۔ عمارت کی سیڑھی، لفٹ، چھت اور پارکنگ سب کی مشترکہ ہے۔

میرے فلیٹ کے بالکل ساتھ والا فلیٹ، جس کے ساتھ میری دیوار ملی ہوئی ہے، اس کے مالک نے عمارت سے باہر کے ایک آدمی کو فروخت کر دیا۔ مجھے اسی دن عمارت کے مکینوں کے گروپ میں خبر ملی اور میں نے فوراً وہیں لکھ دیا کہ یہ فلیٹ میں لینا چاہتا ہوں، اسی قیمت پر خریدنے کو تیار ہوں۔ لیکن بیچنے والا اور خریدار دونوں کہتے ہیں کہ فلیٹ میں پڑوسی کا کوئی حق نہیں ہوتا، یہ حکم صرف زمین اور مکان کے لیے ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا فلیٹ کی خرید و فروخت میں مجھے حقِ شفعہ حاصل ہے؟ اور اگر حاصل ہے تو صرف دیوار ملنے کی وجہ سے، یا زمین اور راستے میں شرکت کی وجہ سے بھی؟

جواب

واضح رہے کہ حقِ شفعہ ترتیب وار تین طرح کے لوگوں کو حاصل ہوتا ہے: سب سے مقدم وہ شخص ہے جو فروخت شدہ جائیداد ہی میں شریک ہو، اس کے بعد وہ جو اس کے حقوق مثلاً خاص راستے میں شریک ہو، اور اس کے بعد ملا ہوا پڑوسی۔ پہلے درجے والے کی موجودگی میں بعد والوں کو شفعہ نہیں ملتا، البتہ وہ دستبردار ہو جائے تو حق اگلے درجے والے کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نیچے کی منزل کی طرح اوپر کی منزل کی خرید و فروخت میں بھی شفعہ جاری ہوتا ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب فلیٹ کے ساتھ عمارت کی زمین کا غیر منقسم حصہ بھی فروخت ہوا ہے اور آپ اس زمین میں شریک ہیں، تو آپ کو اس بیع میں حقِ شفعہ حاصل ہے، اور یہ حق آپ کو زمین میں شرکت کی بنیاد پر پہلے درجے کے شفیع کی حیثیت سے ملا ہے۔ دیوار کا ملا ہونا اور سیڑھی و راستے میں شرکت بعد کے درجے ہیں، زمین کی شرکت کے ہوتے ہوئے ان کا الگ سے کوئی اعتبار نہیں، اور ان کی بنا پر آپ کو عمارت کے دیگر فلیٹ مالکان پر کوئی ترجیح بھی حاصل نہیں۔

عمارت کے باقی فلیٹ مالکان بھی زمین میں اسی درجے کے شریک ہیں، اگر ان میں سے کوئی اور بھی شفعہ کا مطالبہ کرے تو فلیٹ تمام مطالبہ کرنے والوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، کسی کے حصۂ زمین کے کم یا زیادہ ہونے کا اعتبار نہیں ہوگا؛ اور اگر وہ مطالبہ نہ کریں یا دستبردار ہو جائیں تو پورا فلیٹ آپ اسی قیمت پر لے سکتے ہیں جس پر خریدار نے خریدا ہے۔

خبر ملتے ہی اسی وقت گروپ میں خریدنے کا مطالبہ لکھ دینا طلبِ مواثبت کے لیے کافی ہے، البتہ اس کے بعد بلا تاخیر گواہوں کی موجودگی میں بیچنے والے کے پاس (اگر فلیٹ ابھی اسی کے قبضے میں ہو)، یا خریدار کے پاس، یا خود فلیٹ کے پاس جاکر شفعہ کے مطالبے کا اعلان کرنا ضروری ہے، یہ نہ کیا گیا تو حقِ شفعہ باقی نہیں رہے گا۔ اس کے بعد فلیٹ کی ملکیت آپ کی طرف اسی وقت منتقل ہوگی جب خریدار رضامندی سے فلیٹ آپ کے سپرد کر دے یا عدالت اس کا فیصلہ کر دے۔

صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالشفعة في كل شركة لم تقسم، ربعة أو حائط، لا يحل له أن يبيع حتى يؤذن شريكه، فإن شاء أخذ، وإن شاء ترك، فإذا باع ولم يؤذنه فهو أحق به."

(كتاب المساقاة، باب الشفعة، رقم: 1608، ج: 3، ص: 1229، ط: دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:

”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مشترک جائیداد میں، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، خواہ رہائشی مکان ہو یا باغ، شفعہ کا فیصلہ فرمایا۔ شریک کے لیے جائز نہیں کہ اپنے شریک کو اطلاع دیے بغیر اسے فروخت کرے؛ شریک چاہے تو لے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ اگر اس نے اطلاع دیے بغیر فروخت کر دیا تو شریک اس کا زیادہ حق دار ہے۔“

تبیین الحقائق میں ہے:"قال رحمه الله: (هي تملك البقعة جبرا على المشتري بما قام عليه) هذا في الشرع... وشرطها أن يكون المحل عقارا سفلا كان أو علوا احتمل القسمة أو لا، وأن يكون العقد عقد معاوضة مال بمال... قال رحمه الله: (وتجب للخليط في نفس المبيع ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق إن كان خاصا ثم للجار الملاصق)."

(كتاب الشفعة، ج: 5، ص: 239، ط:دار الكتاب)

وفیه ایضاً:"فكل ما كان أكثر اتصالا كان أخص بالضرر، وأشد تعبا معه فكان أحق بها لقوة الموجب لها فليس للأضعف أن يأخذ مع وجود الأقوى إلا إذا ترك فحينئذ يأخذ إذا أشهد بأنه يطلبها عند علمه بالبيع، وإن لم يشهد عند ذلك سقط حقه."

(كتاب الشفعة، ج: 5، ص: 240، ط: دار الكتاب)

وفیه ایضاً:
"وعلى هذا لو كان سفل بين رجلين عليه علو لأحدهما مشترك بينه وبين آخر فباع هو السفل والعلو كان العلو لشريكه في العلو والسفل لشريكه في السفل؛ لأن كل واحد منهما شريك في نفس المبيع في حقه وجار في حق الآخر أو شريك في الحق إذا كان طريقهما واحدا. قال رحمه الله: (على عدد الرءوس بالبيع) أي تجب الشفعة بالبيع وتقسم على عدد الرءوس إذا كانوا كثيرين... ولنا أنهم استووا في سبب الاستحقاق لوجود علة استحقاق الكل في حق كل واحد منهم ولهذا لو انفرد واحد أخذ الكل."

(كتاب الشفعة، ج: 5، ص: 241، ط:دار الكتاب)

وفیه ایضاً:
"قال رحمه الله: (وتستقر بالإشهاد)؛ لأنها حق ضعيف يبطل بالإعراض فلا بد من الإشهاد بعد طلب المواثبة للاستقرار كما أنه لا بد له من طلب المواثبة، وهو أن يطلب كما سمع... قال رحمه الله: (وتملك بالأخذ بالتراضي أو قضاء القاضي) أي تملك الدار المشفوعة بأحد أمرين إما بالأخذ إذا سلمها المشتري برضاه أو بحكم الحاكم من غير أخذ."

(كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة، ج: 5، ص: 242، ط:دار الكتاب)

وفیہ ایضاً:
"ثم إذا أخبر بحضرة الشهود يشهدهم عليه، وإن لم يكن بحضرته أحد يطلب من غير إشهاد؛ لأن هذا الطلب صحيح من غير إشهاد، والإشهاد لمخافة الجحود... ويشترط أن يكون متصلا بعلمه عند عامة المشايخ."

(كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة، ج: 5، ص: 243، ط: دار الكتاب)

وفیه ایضاً:
"وكيفية هذا الطلب أن ينهض من المكان الذي سمع فيه ويشهد على البائع إن كان المبيع في يده أو على المشتري أو عند العقار فإذا فعل ذلك استقرت شفعته."

(كتاب الشفعة، باب طلب الشفعة، ج: 5، ص: 244، ط:دار الكتاب)

تکملۃ البحر الرائق میں ہے:

"وإذا بيع السفل فلصاحب العلو الشفعة، فإن لم يأخذ حتى انهدم أو كان مهدوما حين البيع فلا شفعة له عند الثاني وقال الثالث له الشفعة؛ لأن الشفعة تستحق بسبب إقرار البناء وهو حق التعلي وهو قائم."

(كتاب الشفعة، ج: 8، ص: 145، ط: دار الكتاب)

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100403
تاریخ24-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں