
میرا اپنی بیوی کے ساتھ کسی بات پر اختلاف چل رہا تھا کہ اس دوران بیوی کی طبیعت خراب ہونے لگی، اور انہوں نے غصے میں مجھ سے کہا کہ "مجھے چھوڑ دو"، تو میں نے کہا کہ "میں نے چھوڑ دیا"، اس کے بعد معاملہ ختم ہوا، تو کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوئی ہے؟اگر ہوئی تو کون سی طلاق واقع ہوئی ہے؟اگر بیوی میرے ساتھ خوش نہیں ہے اور میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ، اور روز اس طرح کے معاملات ہوتے ہیں، تو میں اس کو چھوڑ سکتا ہوں تاکہ دونوں سکون سے رہیں؟
واضح رہے کہ :"میں نے چھوڑ دیا "، طلاق کے صریح الفاظ ہیں، بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے؛لہذاصورتِ مسئولہ میں شوہر نے جب اپنی بیوی کو اس کے طلاق کے مطالبے پر کہ"مجھے چھوڑ دو " کے جواب میں اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہے" میں نے چھوڑ دیا" سے بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی، شوہر عدت کے دوران اپنی بیوی سے رجوع کرنا چاہے تو عدت کے دوران رجوع کرسکتا ہے ،اگر عدت گزر گئی تو دوبارہ نئے مہر و گواہو ں کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے ، اس صورت میں شوہر کے پاس مزید دو طلاقوں کا اختیار باقی ہوگا،اور اگر شوہر اپنی بیوی کے ساتھ مزید نہ رہنا چاہے، تو عدت ختم ہونے کے بعد دونوں الگ ہو جائیں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت."
(کتاب الطلاق، باب الکنایات،ج:3،ص:399،ط:سعید)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال:۔ (1) لفظ آزاد صریح ہے یا کنایہ؟ (2) لفظ چھوڑ دی صریح ہے یا کنایہ؟
الجواب حامداً ومصلیاً
(1) ہمارے عرف میں جب شوہر اپنی بیوی کے لئے یہ لفظ بولتا ہے کہ میں نے اس کو آزاد کردیا تو اس سے طلاق ہی مراد ہوتی ہے، پس یہ بمنزلہ صریح طلاق کے ہے۔
(2) یہ لفظ بھی اسی طرح مستعمل ہے جس طرح لفظ آزاد کردیا ہے، کسی اور علاقہ کا کوئی عرف دوسرا ہو تو اس کا حکم بھی دوسرا ہوگا۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم"
(کتاب الطلاق،باب سوم:طلاق صریح، ج:18، ص:282، ط:مکتبہ محمودیہ)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100392
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن