بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل ایپ کے ذریعے اجتماعی قربانی میں حصہ لینے کا حکم

سوال

کچھ عرصے سے ایک ادارہ موبائل ایپ کے ذریعے اجتماعی قربانی کا انتظام کرتا ہے۔ ہم ایپ میں گائے کا ایک حصہ منتخب کر کے آن لائن رقم ادا کر دیتے ہیں۔ ادارہ ملک کے دوسرے علاقے سے جانور خریدتا ہے، وہیں ذبح کرتا ہے اور گوشت یا تو ہمارے گھر پہنچا دیتا ہے یا ہماری ہدایت پر وہیں غریبوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ ذبح کے بعد ایپ پر پیغام آ جاتا ہے کہ آپ کی قربانی ہو گئی۔

ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا حصہ کس جانور میں ہے، ایک جانور میں باقی شرکاء کون ہیں، اور ذبح کس وقت ہوا۔ بعض اوقات جس علاقے میں ذبح ہوتا ہے وہاں عید کی نماز ہمارے شہر سے پہلے ہو جاتی ہے۔

دریافت یہ کرنا ہے کہ اس طریقے سے قربانی ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اور اس میں کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی میں اس جگہ کا اعتبار ہے جہاں جانور ذبح کیا جا رہا ہے، قربانی کرنے والے کی جگہ کا اعتبار نہیں؛ اگر ذبح کی جگہ شہر یا بڑا قصبہ ہو تو وہاں کسی بھی جگہ عید کی نماز ہو جانے کے بعد جانور ذبح کرنا درست ہے، اور اگر وہ ایسا گاؤں ہو جہاں عید کی نماز درست نہیں تو دس ذو الحجہ کی صبح صادق کے بعد ذبح کرنا درست ہے۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سب سے بہتر صورت تو یہ ہے کہ اپنا جانور از خود ذبح کرے یا کم از کم قربانی کے وقت وہاں موجود  رہے اگر کسی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو تو  ایسا  ادارہ جو  معتمد ہو اور قربانی کے شرعی احکام کی پابندی کرتا ہو توان کے ساتھ  ایپ کے ذریعے حصہ لے کر قربانی کرانے سے قربانی ادا ہو جائے گی، اگرچہ حصہ دار کو اپنا جانور، دیگر شرکاء اور ذبح کا وقت معلوم نہ ہو۔ جس علاقے میں جانور ذبح ہو رہا ہے وہاں عید کی نماز پہلے ہو جانے کی صورت میں اسی نماز کے بعد ذبح درست ہے، سائل کے اپنے شہر میں نماز ہو جانا شرط نہیں۔

البتہ اس میں چند امور کی رعایت ضروری ہے: ایک یہ کہ ذبح کی جگہ اگر شہر ہو تو وہاں عید کی نماز سے پہلے جانور ذبح نہ کیا جائے، ورنہ قربانی ادا نہیں ہوگی۔ دوسرے یہ کہ ذبح کے وقت جانور کی جگہ اور قربانی کرنے والے کی جگہ دونوں میں ایامِ قربانی ہوں؛ لہٰذا اگر ذبح کی جگہ دس ذی الحجہ ہو اور حصہ دار کے شہر میں ابھی نو ذی الحجہ ہو، یا حصہ دار کے شہر میں بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہو چکا ہو، تو اس کی قربانی ادا نہیں ہوگی، اسی طرح ذبح کی جگہ پر بھی بارہ ذی الحجہ کا سورج غروب ہونے سے پہلے ذبح ہونا ضروری ہے۔ تیسرے یہ کہ ایک گائے میں سات سے زیادہ حصہ دار نہ ہوں، اور تمام شرکاء کی نیت قربانی کی ہو؛ اگر کسی شریک کا مقصد محض گوشت حاصل کرنا ہو یا کوئی غیر مسلم شریک ہو تو اس جانور میں کسی کی بھی قربانی ادا نہیں ہوگی۔ جس ادارے کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ ان امور کی رعایت نہیں کرتا، اس کے ذریعے قربانی کرانا درست نہیں۔

صحیح بخاری میں ہے:
«عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: من ذبح قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين»

(کتاب الأضاحی، باب سنة الأضحية، رقم: 5546، ج:7، ص:99، ط: السلطانیۃ)

 ترجمہ:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے لیے ذبح کیا، اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔

صحیح مسلم میں ہے:
«عن البراء قال: ضحى خالي أبو بردة قبل الصلاة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تلك شاة لحم... ثم قال: من ضحى قبل الصلاة فإنما ذبح لنفسه، ومن ذبح بعد الصلاة فقد تم نسكه وأصاب سنة المسلمين»

(کتاب الأضاحی، باب وقتها، رقم: 1961، ج:3، ص:1552، ط: دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے ماموں ابو بردہ نے نماز سے پہلے قربانی کر لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گوشت کی بکری ہے... پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز سے پہلے قربانی کی اس نے اپنے لیے ذبح کیا، اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا اس کی قربانی پوری ہوگئی اور اس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا۔

بدائع الصنائع میں ہے:
«وأما وقت الوجوب فأيام النحر فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات المؤقتة لا تجب قبل أوقاتها كالصلاة والصوم ونحوهما، وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر»

(کتاب التضحیۃ، فصل في وقت وجوب الأضحية، ج:5، ص:65، ط: سعید)

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
«وأما شرائط أدائها فمنها الوقت في حق المصري بعد صلاة الإمام والمعتبر مكان الأضحية لا مكان المضحي»

(کتاب الأضحیۃ، ج:8، ص:197، ط: دار الکتاب الاسلامی)

الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:

«وآخره قبيل غروب يوم الثالث... والمعتبر مكان الأضحية لا مكان من عليه»«(قوله وأول وقتها بعد الصلاة إلخ) فيه تسامح إذ التضحية لا يختلف وقتها بالمصري وغيره بل شرطها، فأول وقتها في حق المصري والقروي طلوع الفجر إلا أنه شرط للمصري تقديم الصلاة عليها فعدم الجواز لفقد الشرط لا لعدم الوقت»

(کتاب الأضحیۃ، ج:6، ص:318، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:
«(والمعتبر آخر وقتها للفقير وضده والولادة والموت، فلو كان غنيا في أول الأيام فقيرا في آخرها لا تجب عليه، وإن ولد في اليوم الآخر تجب عليه، وإن مات فيه لا) تجب عليه»

(کتاب الأضحیۃ، ج:6، ص:319، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:
"(وإن مات أحد السبعة) المشتركين في البدنة (وقال الورثة اذبحوا عنه وعنكم) (صح) عن الكل استحسانا لقصد القربة من الكل... (وإن كان شريك الستة نصرانيا أو مريدا اللحم) (لم يجز عن واحد) منهم لأن الإراقة لا تتجزأ"

(کتاب الأضحیۃ، ج:6، ص:326، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100379
تاریخ24-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں