بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

منحہ نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا بیٹی کا نام ”منحہ طاہر“ رکھا جا سکتا ہے ؟

جواب

’’مِنحہ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، اور اس کے معنی گفٹ، تحفہ کے ہیں،اس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام کا انتخاب بہتر ہے۔

ناموں کے سلسلہ میں ہماری ویب سائٹ پر موجود اسلامی نام کے سیکشن سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔

المعجم الوسیط میں ہے:

"المنحة: العطية".

( باب المیم،ج:2،ص:888،  ط:دار الدعوة)

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

"التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل."

(کتاب الحظر والإباحة،‌‌فصل في البيع، ج:6،ص: 417، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100377
تاریخ22-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں