دادا کی تقسیم شدہ زمین میں پھوپھی کے حصے کا دعویٰ
سوال
میرے دادا کا انتقال تقریباً سو سال پہلے ہوا تھا۔ ان کے پاس ایک زمین تھی۔ میرے والد کے بقول، دادا نے اپنی زندگی میں اس زمین کو اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا۔ اس کے بعد ہمارے دیگر چچاؤں نے اس زمین میں سے اپنا اپنا حصہ لے کر اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کردیا۔ اسی طرح میرے والدِ مرحوم نے بھی اپنا حصہ لے کر اپنی اولاد، یعنی ہمارے درمیان تقسیم کردیا، پھر میں نے بھی اپنے حصے کو اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کردیا۔
ہمارے دادا کی ایک بیٹی بھی تھی، یعنی ہماری پھوپھی، ان کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ اب تقریباً ایک ہفتہ پہلے ان کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس زمین میں میری والدہ کا بھی حصہ تھا، لہٰذا مجھے بھی اپنی والدہ کا حصہ دیا جائے۔
اس نے یہ دعویٰ اس وجہ سے کیا کہ ایک سال پہلے وہ اپنا گھربنا رہا تھا اور اس دوران ہمارے والد مرحوم کی ذاتی زمین میں مٹی وغیرہ ڈال رہا تھا۔ ہم نے اسے منع کیا کہ یہاں مٹی نہ ڈالو۔ اس پر اس نے کہا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میری والدہ کا بھی حصہ ہے، میں کچھ نہیں بولتا، اور آپ لوگ مجھے یہاں مٹی ڈالنے سے منع کر رہے ہیں۔
لہٰذا اب سوال یہ ہے کہ دادا کی وہ زمین، جسے انہوں نے میرے والد صاحب کے بقول اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کردیا تھا، اور جس کے بعد بیٹوں نے اپنے اپنے حصے اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کردیے، اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد اب پھوپھی کے بیٹے کا اس میں حصہ طلب کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اور کیا ان کی والدہ کا اس زمین میں شرعاً کوئی حصہ بنتا تھا یا نہیں؟
جواب
والد اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جو مال تقسیم کرتا ہے، وہ شرعاً ہبہ (گفٹ) کے حکم میں ہوتا ہے، اور ہبہ کے صحیح ہونے کے لیے شیئ موہوب (یعنی جس چیز کو ہبہ کیا جارہا ہے)کا مکمل قبضہ دینا ضروری ہے۔ نیز والد اگر اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال تقسیم کرنا چاہے تو اولاد کے درمیان برابری کرنا ضروری ہے، یعنی بیٹے کو جتنا دے، بیٹی کو بھی اتنا ہی دے؛ بصورتِ دیگر یہ تقسیم شرعاً غیر منصفانہ شمار ہوگی۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے دادا نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کرکے انہیں مکمل تصرف کے ساتھ قبضہ بھی دے دیا تھا تو یہ تقسیم نافذ ہوجائے گی، تاہم بیٹی کو اس کے حق سے محروم کرنا گناہ ہوگا۔ ایسی صورت میں سائل کے چچاؤں کو یا وہ زمین اب جن ورثاء کے قبضہ میں ہے انہیں چاہئے کہ دادا کی بیٹی یعنی سائل کی پھوپھی کو اس کا شرعی حق دے دیں، تاکہ ان کے والد آخرت میں اس معاملے کی ذمہ داری سے بری ہوجائیں۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"و عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلامًا، فقال: «أكلّ ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية ... قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم»".
(باب العطایا، ج:2، ص:999، ط: المكتب الإسلامي)
ترجمہ:حضرت نعمان ابن بشیر کے بارے منقول ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر ) انہیں رسول کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا : ”نہیں “، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ …… آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔
(مظاہر حق، باب العطایا، ج:3، ص:191، ط: دار الاشاعت)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

