
ایک محلے میں مسجد کے لیے زمین خریدی گئی ہے، مگر مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک مسجد تعمیر نہیں ہو سکی، جبکہ وہاں مسجد کی اشد ضرورت ہے اور اہلِ محلہ پانچ وقت کی نماز باجماعت کی سہولت سے محروم ہیں۔ اب یہ صورتِ مسئلہ سامنے آئی ہے کہ صاحبِ نصاب لوگ اپنی زکوٰۃ کی رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو دے دیں، اور وہ مستحقِ زکوٰۃ شخص رقم وصول کرکے اس کا مالک بننے کے بعد اپنی رضامندی سے وہ رقم مسجد کی تعمیر میں خرچ کر دے۔ کیا اس طرح کرنے سے جو لوگ صاحبِ زکوٰۃ ہیں، ان کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟ اور جو مستحقِ زکوٰۃ شخص زکوٰۃ کی رقم وصول کرنے کے بعد اسے مسجد کی تعمیر میں لگائے، کیا اس کا مسجد کی تعمیر میں یہ رقم لگانا شرعاً درست ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں مسجد کی تعمیر کی شدید ضرورت ہو اور اس کی تعمیر کے لیے زکوٰۃ کی رقم کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل بندوبست نہ ہوسکے تو ایسی شدید مجبوری کی صورت میں کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ کی رقم مالک بنا کر دے دی جائے اس کے بعد وہ اپنی خوشی اور رضامندی سےاس رقم کو مسجد کی تعمیر میں لگائے تو شرعاً ایسا کرنا درست ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) ۔۔۔۔۔ الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم."
(کتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:344،345، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100324
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن