
عُلیّہ اور بحینہ نام رکھنا کیسا ہے؟
بُحینہ (حاء کے ساتھ) صحابیہ کا نام ہے،اس کا معنی ہے :کھجور کا معروف درخت جو لمبا ہو. صحابیات کے نام میں نسبت اصل ہے، معنی کی حیثیت ثانوی ہے۔
عُلیہ :عین کے پیش،لام کے زبر،اور یاء کی تشدید کے ساتھ معنی بلند وبالا قدر ومنزلت والی کے ہیں۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دونوں ناموں سے کسی بھی نام پر بچی کا نام رکھنا درست ہے،پہلا نام تو صحابیہ کا نام ہے،جب کہ دوسرا نام معنی کے اعتبار سے اچھا ہے۔
الاصابہ میں ہے:
"بحينة:بمهملة ونون مصغرا، بنت الحارث .
ذكرها ابن إسحاق فيمن قسم له رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم من خيبر ثلاثين وسقا. وأخرجها المستغفريّ، وأبو موسى، وقال ابن الأثير: هي والدة عبد اللَّه بن بحينة، وقد ذكر ذلك ابن سعد وأفرد لها ترجمة، وقال اسمها عبدة بنت الحارث، وهو الأرت بن المطلب، تزوجها مالك الأزدي حليفا لهم، فولدت له عبد اللَّه بن بحينة، ولهما صحبة، وأسلمت أمّها وبايعت رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم، وأطعمها من خيبر ثلاثين وسقا."
(کتاب النساء، الباء الموحدۃ، ج:8، ص:46، ط:دار الکتب العلمیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100321
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن