بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ربیع الاول ربیع الثانی جمادی الاول جمادی الاخری کی راتوں میں سرمہ لگانے سے بینائی چلے جانے والی مشہور غلط بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے

سوال

 ہمارے معاشرے میں یہ بات مشہور ہے کہ ربیع الاول، ربیع الثانی ،جمادی الاولی، جمادی الاخری کی راتوں میں سرمہ لگانے سے بینائی چلی جاتی ہے۔ کیا اس بات کی کوئی شرعی یا طبی حقیقت ہے؟ کیا یہ بات احادیثِ مبارکہ یا آثارِ سلف سے منقول ہے؟ اگر حدیث سے منقول ہے تو اس کی سند اور صحت کا درجہ کیا ہے؟ اور اگر حدیث سے ثابت نہیں تو اس بات کی اصل اور شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ احادیث مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بالخصوص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر رات میں سونے سے پہلے سُرمہ لگانے کا معمول  تھا، کسی روایت میں یہ نہیں ملتا کہ بعض مہینوں یا رواتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرمہ لگانے سے منع کیا ہو، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات سونے سے پہلے اثمد کا سرمہ لگاتے تھے، اور ہر آنکھ میں تین تین مرتبہ سرمہ لگاتے تھے۔ 

لہذا صورتِ مسئولہ میں آپ کے علاقہ میں مشہور بات کہ ماہ ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاولی ،جمادی الاخری ،کی راتوں میں سرمہ لگانے سے بینائی چلی جاتی ہے، کی کوئی حقیقت و  اصل نہیں ہے، اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے، اس طرح کے بے اصل باتوں پر یقین کرنے سے گریز کیا جائے۔

مسند احمد میں ہے:

" حدثنا أسود بن عامر، حدثنا إسرائيل، عن عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يكتحل بالإثمد كل ليلة قبل أن ينام، وكان يكتحل في كل عين ثلاثة أميال ."

(ج:5، ص:343، ط:مؤسسة الرسالة)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(كل ليلة) : أي قبل أن ينام كما في رواية، وعند النوم كما في أخرى، والحكمة فيه أنه حينئذ أبقى للعين، وأمكن في نفوذ السراية إلى طبقاتها (ثلاثة) : أي ثلاث مرات متوالية (في هذه) : أي اليمنى (وثلاثة) : أي متتابعة (في هذه) : أي اليسرى، والمشار إليها عين الراوي بطريق التمثيل، وقد ثبت أنه - صلى الله عليه وسلم - قال: " «من اكتحل فليوتر» " على ما رواه أبو داود، وفي الإيتار قولان: أحدهما: ما سبق، وعليه الروايات المتعددة، وهو أقوى في الاعتبار لتكرار تحقق الإيتار بالنسبة إلى كل عضو، كما اعتبر التثليث في أعضاء الوضوء وثانيهما: أن يكتحل فيهما خمسة، ثلاثة في اليمنى، ومرتين في اليسرى، على ما روي في شرح السنة، وعلى هذا ينبغي أن يكون الابتداء والانتهاء باليمين تفضيلا لها على اليسار، كما أفاده الشيخ مجد الدين الفيروزآبادي، ويجوز اثنين في كل عين وواحدة بينهما، أو في اليمنى ثلاثا متعاقبة، وفي اليسرى اثنتين، فيكون الوتر بالنسبة إليهما جميعا، وأرجحهما الأول لما ذكر من حصول الوتر شفعا، مع أنه يتصور أن يكتحل في كل غير واحدة، ثم وثم ويئول أمره إلى الوترين بالنسبة إلى العضوين، لكن القياس على باب طهارة الأعضاء بجامع التنظيف والتزيين هو الأول فتأمل."

(باب الترجل ، 7/2838،ط:دارالفکر بیروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100316
تاریخ14-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں