تعمیر کے لیے سونا دینے کے وعدے کی بنیاد پر سونے کی رقم کی ادائیگی کا حکم
سوال
ہم نے اپنے گھر کے اوپر ایک اور منزل بنانے کا ارادہ کیا تو میری بہو نے وعدہ کیا کہ میں چار لاکھ روپے اور اپنے بارہ تولے سونے کے زیورات اس تعمیر پر لگاؤں گی، جس کی وجہ سے میں نے اسٹامپ پیپر پر لکھ کر دے دیا کہ یہ مکان جب بھی فروخت ہوگا تو آپ کے یہ چار لاکھ روپے اور بارہ تولے سونا واپس دے دیا جائے گا۔
لیکن تعمیر شروع ہونے کے بعد اس نے اپنے زیورات نہیں لگائے، تو کیا اس صورت میں بھی اس کے بارہ تولے سونے کی رقم میرے اوپر واجب الادا ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں اگر واقعتًا آپ کی بہو نے اپنے سونے کے زیورات نہیں دیے اور نہ ان کی قیمت گھر کی تعمیر میں خرچ ہوئی ہے، بلکہ صرف یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے زیورات تعمیر میں لگائے گی، اور آپ نے اسی وعدے کی بنیاد پر اسٹامپ پیپر پر لکھا تھا کہ مکان فروخت ہونے پر بارہ تولے سونا واپس کیا جائے گا، تو محض اس تحریر کی وجہ سے بارہ تولے سونے کی قیمت آپ کے ذمہ لازم نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"القرض (هو) لغة: ما تعطيه لتتقاضاه، وشرعا: ما تعطيه من مثلي لتتقاضاه وهو أخصر من قوله (عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة."
(كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، فصل في القرض، ج:5، ص: 161، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

