
اسلحہ کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟
صورت مسئولہ میں اگرحکومت سے باقاعدہ قانونی لائسنس و اجازت نامہ حاصل کر کے قوانین کی پاسداری کے ساتھ اسلحہ کا کاروبار کیا جائے، نیز کسی ڈاکو یا فتنہ پرور اور شریر شخص کے ہاتھ اسلحہ وغیرہ فروخت نہ کیا جائے، تو اِس کی تجارت شرعاً جائز ہے۔ اِس کے برعکس غیر قانونی طریقے سے بغیر لائسنس اسلحہ کا کاروبار کرنے سے اجتناب لازم ہے، کیوں کہ حکومت اور ریاست کی جانب سے امن و امان کے قیام اور شہریوں کو جانی و مالی خطرات سے بچانے کے لیے جو انتظامی قوانین و ضوابط نافذ کیے جاتے ہیں—اگر وہ شریعتِ مطہرہ سے متصادم نہ ہوں—تو ان کی پاسداری کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے، اِس بنا پر حکومت کی جانب سے اسلحہ وغیرہ خرید و فروخت پر حکومت کی طرف سے لائسنس اور قانونی اجازت کی جو شرط عائد کی جاتی ہے، شرعی نقطہ نظر سے اس کی رعایت رکھنا واجب ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں نہ صرف مال، عزت اور آبرو پر شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں، بلکہ گرفتاری کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ قید و عقوبت اور رسوائی کا اندیشہ بھی رہتا ہے، جبکہ شریعتِ مطہرہ میں انسان کا اپنے آپ کو ذلت و رسوائی کے مواقع میں ڈالنا ممنوع ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ويكره بيع السلاح من أهل الفتنة في عساكرهم، ولا بأس ببيعه بالكوفة ممن لم يدر أنه من أهل الفتنة، وهذا في نفس السلاح، فأما ما لا يقاتل به إلا بصنعة كالحديد فلا بأس به كذا في الكافي."
(كتاب السير، الباب العاشر في البغاة، ج:2، ص:285، ط:دارالفكر)
امداد الفتاویٰ( جدید مطول حاشیہ) میں ہے:
” نقلی وعقلی مسلّمہ مسئلہ کہ احکام بعضے اصلی ہوتے ہیں بعضے عارضی، مثلاً اسلحہ و گولی وبارود کی تجارت اصل وضع کے اعتبار سے مثل دیگر تجارت کے بلاکسی قید کے جائز ہونا چاہیے اور یہ حکم اصلی ہے؛ لیکن اس کے نتائج مضرہ پر نظر کر کے اس میں لائسنس کی قید قانوناً لگادی گئی، یا فواکہ کی تجارت، اس کی اصل کا مقتضی یہ ہے کہ ہر حال میں او رہر وقت میں جائز ہو، مگر وَبا کے زمانہ میں طبّی اصول پر اس تجارت کو ممنوع کردیا جاتا ہے، اور ایسے عواض اگر ممتد ہوں توحکم بھی ممتد ہوتا ہے، اگر محدود ہوں تو حکم بھی محدود ہوتا ہے، مثلاً اسلحہ کی آزاد تجارت میں ہمیشہ مضرت کا اندیشہ تھا ، وہاں ممانعت دوامی ہوگئی...“
( بقیہ الحظر والاباحۃ، ج:۹، ص:۲۲۲-۲۲۳، ناشر: زکریا بک ڈپو انڈیا الھند)
آپ کے مسائل اُن کا حل میں ہے:
”کسی ایسے شخص کو ہتھیار دینا جس کے بارے میں یقین ہو کہ یہ کسی کو ناحق قتل کرے گا، یہ تو جائز نہیں، بیچنے والا بھی گنہگار ہوگا، لیکن بیع صحیح ہے۔“
(خریدوفروخت کے متفرق مسائل، کسی مشتبہ شخص کو ہتھیار فروخت کرنا، ج:۷، ص:۲۴۹، ط:مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100264
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن