بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 ربیع الثانی 1448ھ 03 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا قرض دار کو تحفہ دینا قرض کی ادائیگی شمار ہوگا؟


سوال

ہمارے والدِ مرحوم نے ہماری والدہ سے سونا بطورِ قرض لے کر ایک کاروبار شروع کیا تھا۔ سونا لیتے وقت والد صاحب نے ایک صفحے پر سونے کی مقدار اور دیگر تفصیلات لکھ لی تھیں۔

والد صاحب اپنی زندگی میں مختلف خوشی کے مواقع پر کبھی کبھار کچھ سونا اپنی اہلیہ، یعنی ہماری والدہ کو دیتے رہتے تھے، لیکن دیتے وقت یہ واضح نہیں کرتے تھے کہ یہ سونا ہدیہ کے طور پر دے رہے ہیں یا پہلے لیے ہوئے قرض کے سونے میں سے واپس کر رہے ہیں۔ وہ صرف سونا دے دیتے تھے، جبکہ والدہ اسے ہدیہ اور تحفہ سمجھ کر رکھ لیتی تھیں۔

مزید یہ کہ والد  مرحوم نے قرض لیتے وقت جس صفحے پر سونے کی مکمل مقدار درج کی تھی، بعد میں خوشی کے مواقع پر جو سونا دیتے رہے، اس میں سے کبھی اس مقدار کو منہا نہیں کیا اور نہ ہی اس اصل تحریر میں کوئی کمی کی۔ البتہ بعد میں دیے گئے اس سونے کی تفصیل ایک الگ صفحے پر لکھتے رہے۔ نیز والد  مرحوم  نے کبھی یہ صراحت نہیں کی کہ یہ سونا میں پہلے لیے ہوئے قرض کی واپسی کے طور پر دے رہا ہوں۔

اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ والد  مرحوم کے  ترکہ میں سے پہلے    ہماری والدہ کے قرض کے طور پر لیے گئے سونے کی مکمل مقدار ادا کرنا لازم ہوگی، جو پہلی تحریر میں درج ہے، یا بعد میں خوشی کے مواقع پر جو سونا والد  مرحوم  نے دیا تھا، اسے پہلے قرض کی مقدار میں شمار کرکے منہا کیا جائے گا اور باقی سونا ادا کیا جائے گا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کے والد نے اپنی اہلیہ سے جو سونا قرض لیا تھا اور اپنے کھاتے میں اسے بطورِ قرض درج کر رکھا تھا، تو اب مذکورہ سونے کے مساوی سونا والدِ مرحوم کے ترکہ سے ان کی بیوہ کو ادا کیا جائے گا، اس کے بعد ترکہ کی تقسیم کی جائے گی۔

جبکہ والد صاحب نے جو سونا اپنی اہلیہ کو بطورِ تحفہ دیا تھا، جس کی تفصیل الگ صفحے میں درج بھی کی تھی، تو اس سونے کی مالک بیوہ ہی ہوگی۔ تحفے میں دیے گئے سونے کو قرض میں لیے گئے سونے کی ادائیگی قرار نہیں دیا جائے گا۔

تاہم اگر بیوہ اپنی خوشی اور رضامندی سے مرحوم شوہر کا قرض معاف کر دے تو یہ بیوہ کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا۔ تاہم معاف کرنے پر بیوہ کو مجبور کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔

الموسوعة الفقهية الكويتية میں ہے :

"وهو أنه لا بأس بهدية من عليه القرض لمقرضه، لكن الأفضل أن يتورع المقرض عن قبول هديته إذا علم أنه إنما يعطيه لأجل القرض، أما إذا علم أنه يعطيه لا لأجل القرض، بل لقرابة أو صداقة بينهما."

(حرف القاف، مادة: قرض، ج :33، ص:131،ط:وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية)

  فتاوی شامی میں ہے :

"ويؤيده ما ذكروه فيما لو أهدى المستقرض للمقرض، إن كانت بشرط كره، وإلا فلا."

(کتاب البیوع ،فصل فی القرض،ج:5،ص:166،ط:سعید)

وفیہ ایضا:
"فإن الديون تقضى بأمثالها فيثبت للمديون بذمة الدائن مثل ما للدائن بذمته فيلتقيان قصاصاً."

(کتاب الشركة، مطلب في قبول قوله دفعت المال بعد موت الشريك أو الموكل، ج: 4، ص :320، ط: سعید)

 فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144804100257

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں