بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1448ھ 22 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی پر بلا شرط اضافی رقم لینے اور پیشگی اضافہ طے کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں نے اپنے ایک دوست کو ضرورت کے وقت ایک لاکھ روپے قرض دیا تھا۔ اس نے واپسی پر خود ہی خوشی سے دس ہزار روپے زیادہ دینے کی پیشکش کی، حالاں کہ قرض دیتے وقت میں نے کوئی شرط نہیں لگائی تھی۔ کیا یہ اضافی رقم لینا میرے لیے جائز ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ اگر قرض دیتے وقت ہی یہ طے کر لیا جائے کہ واپسی پر اتنی رقم زیادہ ملے گی، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض میں شرعاً اصل بات یہ ہے کہ قرض دیتے وقت زائد رقم کی کوئی شرط نہ لگائی جائے؛ اگر ایسی شرط لگائی جائے تو یہ سود شمار ہوگا اور ناجائز ہوگا، خواہ رقم کتنی ہی کم ہو۔ البتہ اگر قرض دیتے وقت کوئی شرط طے نہ ہوئی ہو اور مقروض اپنی خوشی سے، بغیر کسی مطالبے کے، زائد رقم ادا کرے تو یہ قرض خواہ کے لیے لینا جائز ہے، کیوں کہ یہ زائد رقم شرعاً ایک تحفہ شمار ہوگی نہ کہ سود۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں سائل کے لیے دس ہزار روپے زائد لینا جائز ہے۔

تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ «نَهَى عَنْ كُلِّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا»."

(کتاب الصرف، ج: 4، ص: 175

المحیط البرہانی میں ہے:

"وإذا أرجح في بدل القرض ولم يكن الرجحان مشروطاً في القرض فلا بأس به."

(کتاب القرض، ج: 7، ص: 168)

الدر المختار میں ہے:

"القرض لا يتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد منها لا يبطله."

(کتاب البیوع، باب القرض، ص: 430)

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"قَالَ ﷺ: «خَيْرُكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً لِلدَّيْنِ»."

(کتاب البیوع، ج: 12، ص: 153)

البنایۃ شرح الہدایۃ میں ہے:

"أخرج البیہقی... عن فضالۃ بن عبید أنہ قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا."

(کتاب الکراہیۃ، ج: 12، ص: 233)

حاشیۃ ابن عابدین (ردّ المحتار) میں ہے:

"وَفِي الْأَشْبَاهِ: كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ."

(ج: 5، ص: 166)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں