بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرتہن کا مرہونہ مکان کا کرایہ دے کر اس میں رہائش اختیار کرنا

سوال

ایک بھائی نے اپنی بہن کو اس کے شوہر کے آپریشن کے لیے 8 لاکھ روپے بطور قرض دیے ہیں، اور اس کے بدلے بہن کا مکان رہن (گروی) رکھ لیا ہے،  یعنی جب تک بہن 8 لاکھ روپے واپس نہیں کرتی، مکان بھائی کے پاس رہن رہے گا۔

اب بھائی اپنے بچوں کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے بہن کے اسی مکان میں رہنا چاہتا ہے، کیونکہ بہن شہر میں رہتی ہے اور اسی مکان میں  رہتی ہے۔بھائی کا کہنا ہے کہ وہ مکان میں رہنے کے عوض بہن کو 2 ہزار روپے ماہانہ دے گا۔

1۔  کیا قرض کے بدلے مکان کو اس طرح رہن رکھنا شرعاً جائز ہے؟
2۔  کیا قرض دینے والا بھائی اس رہن رکھے ہوئے مکان میں خود رہ سکتا ہے؟
3۔ اگر وہ مکان میں رہنے کے عوض ہر ماہ 2 ہزار روپے بہن کو دے، تو کیا یہ جائز ہوگا، یا چونکہ مکان قرض کے بدلے رہن ہے اس لیے اس سے قرض دینے والے کو کسی بھی قسم کا فائدہ حاصل کرنا سود (ربا) کے حکم میں آئے گا؟
4۔ اگر مکان میں رہنے کا معاملہ قرض سے الگ ایک مستقل کرایہ داری کے معاہدے کے طور پر کیا جائے، تو کیا اس کی کوئی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ "رہن"(گروی)  کا  شرعی  حکم یہ  ہے کہ  ضرورت  کی  وجہ  سے کسی قرض کے  مقابلے میں "رہن‘"  لینا اور دینا درست ہے،  لیکن رہن میں رکھی جانے والی چیز  کی حیثیت محض ضمانت کی ہوتی ہے اور رہن (گروی) رکھی ہوئی چیز  اس کے اصل مالک کی ہی ملک میں رہتی ہے؛ البتہ قبضہ مرتہن  (جس کے پاس گروی رکھی ہوئی ہے) کا ہوتا ہے،  اور  مرتہن  (جس کے پاس چیز گروی رکھی ہو) کے لیے شرعاً اس کے استعمال یا اس سے نفع  کمانے  کی اجازت نہیں ہوتی۔اگر رہن میں رکھی ہوئی چیز کو مرتہن نے استعمال کرلیا تو اُس چیز سے نفع حاصل کرنا  سود کے زمرے میں آئے گا؛ کیوں کہ رہن قرض کے بدلے میں ہوتا ہے اور قرض دے کر مقروض سے نفع حاصل کرنا  یہ سود ہےجو کہ شرعا حرام ہے ۔

1۔ چنانچہ مسئولہ صورت میں قرض کے بدلے میں بہن کے مکان کو بھائی کا بطور رہن رکھنا ذکر کردہ شرائط کے ساتھ جائز ہے ۔

2۔ قرض دینے والے مذکورہ بھائی(مرتہن)  کے لیے اپنے پاس بطور گروی  رکھے ہوے مکان میں رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ۔ 

3، 4 ۔ چونکہ مرتہن(جس کے پاس رہن رکھوایا گیا ہے) کا شیئ ِمرہون(جو چیز رہن میں کھوائی ہو )  سے فائدہ اٹھانا ، اسے استعمال میں لانا یااس میں کسی قسم کاتصرف کرناشرعا جائز نہیں ہے ،خواہ   راہن(گروی رکھوانے والا)  کی اجازت سے ہویا بغیر اجازت کے ،بہرصورت ناجائز ہے ؛ راہن کی اجازت کی صورت میں اس لیے ممنوع ہے کہ وہ حاصل کیا جانے والا  نفع ربا  ہے اور سود اجازت سے بھی حلال نہیں ہوتا، اور بغیر اجازت کے تو بدرجہ اولیٰ جائز نہیں ہے۔

نیز جس مکان کو راہن (مالک) نے مرتہن کے پاس رہن میں رکھا، پھر مرتہن اسی مکان  کو کرایہ پر لینا چاہے جس پر راہن آمادہ بھی  ہو  تواس کی گنجائش تو ہوگی ؛ البتہ ایسی صورت میں اس پر رہن کے احکامات جاری نہیں ہوں گے بلکہ یہ مستقل کرایہ داری کا معاملہ ہوگا ، جب کہ مذکورہ صورت میں متعاقدین کا مروجہ کرایہ(اجرت)  طے کرنا ضروری ہے ، .مروجہ اجرت سے کم مذکورہ مکان کا  کم کرایہ  طے کرنے کی صورت میں قرض پر نفع شمار ہو گا تو  سود لازم آئے گا، جو کہ شرعا حرام ہے ۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وشرعًا (حبس شيء مالي بحق يمكن استيفاؤه) أي أخذه (منه) كلًّا أو بعضًا".

(کتاب الرهن، ج:6، ص:477، ط:سعید)

وفیہ ایضا :

"قال في الكفاية: والأصل فيه أن تصرف الراهن إذا كان يبطل حق المرتهن لا ينفذ إلا ‌بإجازة ‌المرتهن، فإذا أجازه، فإن كان تصرفا يصلح حقا للمرتهن ينفذ ما لحقته الإجازة، وإن لم يصلح فبالإجازة يبطل حق المرتهن وينفذ السابق من تصرفات الراهن وإن كان المرتهن أجاز اللاحق".

(كتاب الرهن، ج:6، ص:509، ط:سعید)

رد المحتار  میں ہے :

"إذا آجر الراھن الرھن من المرتھن ینفسخ بمجرد عقد الإجارة ولا یحتاج إلی قبض جدید کما یفیدہ کلام البزازیة الخ"

(کتاب الرھن، باب التصرف في الرهن والجناية عليه وجنايته على غيره، ج:7، ص:87، ط:دارالفکر)

وفیہ ایضا:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعًا حرام، فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن".

"لا يحل له أن ينتفع بشيء منه بوجه من الوجوه وإن أذن له الراهن، لأنه أذن له في الربا لأنه يستوفي دينه كاملا فتبقى له المنفعة فضلا، فتكون ربا وهذا أمر عظيم."

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة، فصل فی القرض، مطلب كل قرض جر نفعا حرام، ج:5، ص:166، ط:سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"عقد ‌الرهن يفيد ملك الحبس لا ملك الانتفاع، فإن انتفع به فهلك في حال الاستعمال يضمن كل قيمته؛ لأنه صار غاصبا وليس له أن يبيع ‌الرهن ‌بغير ‌إذن الراهن؛ لأن الثابت له ليس إلا ملك الحبس، فأما ملك العين فللراهن، والبيع تمليك العين فلا يملكه المرتهن من غير إذن الراهن."

(كتاب الرهن، ج:6، ص:146، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے :

"قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به."

(کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع، ج:3، ص:202، ط:دار الفکر)

وفیہ ایضا :

"ولو أجاز المرتهن تصرف الراهن نفذ وخرج من أن يكون رهنا والدين على حاله، وفي البيع يكون الثمن رهنا مكان المبيع، وكذا إذا كان تصرفه في الابتداء بإذن المرتهن."

(کتاب الرھن، الباب الثامن في تصرف الراهن أوالمرتهن في المرهون، ج:5، ص:462، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100198
تاریخ26-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں