بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الثانی 1448ھ 25 ستمبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کا نان و نفقہ کس کے ذمہ ہے؟


سوال

میری والدہ کی ذہنی کیفیت  ٹھیک نہیں ہے،جس کی وجہ سے  کبھی وہ دیوار سے بات کرتی ہیں،کبھی گالیاں دیتی ہیں،وغیرہ وغیرہ ،والدہ کی اس کیفیت کی وجہ سے  بھائی ان کو رکھنے کےلیے تیار نہیں  تھے،اب انہوں نے والدہ کو رکھا ہوا ہے۔

میں شادی شدہ ہوں ، 40گز کے مکان میں رہتاہوں ایک کمرہ ہے ،جس میں میں کاروبار بھی کرتاہوں،گھرچھوٹا ہونےکی وجہ سے میں نے والدہ کو بھائی ہاں بھیج دیا،کیوں کہ وہ مالی لحاظ سے بھی مستحکم ہیں اور ان کا گھر بھی بڑا ہے۔اب بھائی مجھ سے والدہ کے لیے  ساڑھے سات ہزار  لیتے ہیں جب کہ میرا مکان کا کرایہ تقریباً 15000ہزار روپے ہیں، ساڑھے سات ہزار کی گنجائش نہیں ہے جو میں بھائی کو والدہ کے نان ونفقہ کے لیے دے سکوں ،البتہ میں مہینہ کا دو ہزار  روپے دے سکتاہوں۔

اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں والد ہ کا نان ونفقہ ورہائش کا انتظام کرنا کس کے ذمہ ہے؟

جواب

واضح رہے شریعت نےوالدین کے  احترام وحسن سلوک،ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ،ان کی خدمت کرنا  اوراگر والدین محتاج ہوں توان  کے نان و نفقہ  کا انتظام کرناجائز امور میں ان کی اطاعت  کر نے کواولاد پر لازم قرار دیا ہے۔

 اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں جہاں اپنی بندگی کا حکم دیاہے وہیں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم بھی فرمایا ہے ، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

"وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًاۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔" (سورۃ الإسراء، الآیة: 23، 24)

ترجمہ''اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما(ترجمہ از تفسیر  لاہوری)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

'' وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ۔" (سورۃ لقمان، الآیة : 23، 24)

ترجمہ:اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے متعلق تاکید کی ہے اس کی ماں نے ضعف پر ضعف اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہے تو میری اور اپنے ماں باپ کی شکر گزاری کرے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے(ترجمہ از تفسیر لاہوری )

نیز متعدد احادیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے  والدین سے اچھے سلوک اور اچھا معاملہ کرنے اور ان کی خدمت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ان کی نافرمانی سے روکا ہے۔

چنانچہ ایک حدیث میں   رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا:

'' جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے والا ہے، یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کی ہے تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں اور اگر اس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے اطاعت اور فرمانبرداری کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے، اور جس شخص نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ ماں باپ کے حق میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ہے( یعنی: اس نے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی اور تقصیر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی ہے) تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کے لیے دوزخ کے دو دروازے کھلے ہوتے ہیں، اور اگر ماں باپ میں سے کوئی ایک زندہ ہو کہ جس کی اس نے نافرمانی کی ہے تو ایک دروازہ کھولا جاتا ہے۔ یہ ارشاد سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ اگرچہ ماں باپ اس پر ظلم کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نے کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں،اگرچہ  ماں باپ اس پر ظلم ہی کیوں نہ کریں''۔

لہذا اولاد کو چا ہیے کہ وہ والدہ کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں، ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں، جیسا کہ بچپن میں وہ ان کا سہارا بنی تھیں اور مشقتیں اٹھا کر اسے پالا تھا، اور ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت کا باعث سمجھیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ کے پاس اتنا مال ہو جس سے وہ خود اپنے لیے نان و نفقہ کا بندوبست کر سکتی ہوں تو اولاد پر ان کا نان و نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ البتہ اگر والدہ کے پاس خود کچھ بھی نہ ہو جس سے وہ اپنے لیے نان و نفقہ یا رہائش کا بندوبست کر سکیں، تو ان کا نفقہ ان کی مالدار (صاحبِ نصاب) اولاد کے ذمہ واجب ہے، اور یہ نفقہ بقدرِ کفایت ہے۔ یعنی اولاد میں سے ہر ایک اپنی مالی استطاعت کے مطابق نان و نفقہ کے انتظام کا ذمہ دار ہوگا۔

پس سائل اگر واقعتاً تنگ دست ہے اور اس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود نہیں ہے، تو اس صورت میں سائل پر والدہ کا نفقہ  شرعاً لازم نہیں  ہوگا، لہٰذا سائل کے بھائیوں کو سائل سے والدہ کا نفقہ طلب کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

مشکوۃ المصابیح میں ہے:

2- "عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أصبح مطیعاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن کان واحداً فواحداً، ومن أصبح عاصیاً لله في والدیه أصبح له بابان مفتوحان من النار، إن کان واحداً فواحداً، قال رجل: وإن ظلماه؟ قال: وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه. رواه البیهقي في شعب الإیمان".

( کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثالث، ص: 421، ط: قدیمی)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لأبويه وأجداده وجداته لو فقراء) أي تجب النفقة لهؤلاء... وشرط الفقر؛ لأنه لو كان ذا مال فإيجاب النفقة في ماله أولى من إيجابها في مال غيره... وأطلق في الابن ولم يقيده بالغنى مع أنه مقيد به لما في شرح الطحاوي ولا يجبر الابن على نفقة أبويه المعسرين إذا كان معسرا."

(كتاب الطلاق، باب النفقة، نفقة الأبوين والأجداد والجدات، ج: 4، ص: 349،348، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قال: ويجبر الولد الموسر على نفقة الأبوين المعسرين مسلمين كانا، أو ذميين قدرا على الكسب، أو لم يقدرا۔۔۔

وإذا اختلطت الذكور والإناث فنفقة الأبوين عليهما على السوية في ظاهر الرواية، وبه أخذ الفقيه أبو الليث، وبه يفتى كذا في الوجيز للكردري."

وإن كان للفقير ابنان أحدهما فائق في الغنى والآخر يملك نصابا كانت النفقة عليهما على السواء، ولو كان أحدهما مسلما والآخر ذميا كانت النفقة عليهما على السواء كذا في فتاوى قاضي خان قال الشيخ الإمام شمس الأئمة قال مشايخنا - رحمهم الله تعالى - إنما تكون النفقة عليهما على السواء إذا تفاوتا في اليسار تفاوتا يسيرا، وأما إذا تفاوتا تفاوتا فاحشا فيجب أن يتفاوتا في قدر النفقة كذا في الذخيرة،''

(کتاب الطلاق،الباب السابع عشرفی النفقات،الفصل الخامس فی  نفقات  ذوی الارحام،ج:1،ص،565،ط:دارالفکر)

کفایت المفتی میں ہے:

''والدین کا نفقہ اولاد پر اس کی حیثیت کے موافق واجب ہے

(سوال) ایک بیوہ عورت کے چار بیٹے ہیں۔ ایک نابالغ اور تین بالغ۔ بالغوں میں سے دو لڑکے بہت غریب ہیں مشکل سے تین تین آنے روز کی مزدوری کرتے ہیں۔ ان دونوں میں سے ایک تو اکثر بواسیر کے مرض میں مبتلا رہتا ہے۔ بہر حال یہ دونوں بہت غریب ہیں۔ تیسرا لڑکا خوش حال ہے پچیس روپے ماہوار کا سرکاری ملازم ہے اور بھی کچھ بچوں کو پڑھالیتا ہے۔ اس کو مہینہ میں معقول یافت ہوتی ہے۔ وہ دونوں غریب لڑکے اپنی بیوہ ماں اور نابالغ بھائی کو دو روپے ماہوار نفقہ کے لئے دیتے ہیں اور ہاتھ پاؤں سے اکثر خدمت کرتے ہیں۔ اب گزارش ہے کہ تیسرا لڑکا جو خوش حال ہے اس پر بھائی نابالغ اور والدہ کا کیا حق ہے۔ ان دونوں غریبوں کے برابر ہی حق ہے یا کچھ زائد؟

(جواب412) اگر وہ دونوں مالکِ نصاب نہیں ہیں یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کا مال ان کی ملک میں نہیں ہے اور تیسرا اتنے مال کا مالک ہے تو والدہ اور چھوٹے بھائی کا نفقہ صرف تیسرے کے ذمہ واجب ہے۔ اور اگر یہ دونوں بھی مالکِ نصاب ہوں تو پھر تینوں کے ذمہ واجب ہے۔ لیکن چونکہ ان کی آمدنی میں تفاوتِ فاحش ہے اس لئے ان دو غریبوں پر ان کی حیثیت کے موافق اور تیسرے مالدار پر اس کی حیثیت کے موافق واجب ہوگا۔''

(کتاب النکاح،ج:5،ص:420،ط:دالاشاعت)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

''اگر دونوں لڑکوں میں مالدار اور غریب ہونے کے اعتبار سے زیادہ فرق ہے، تو والد کے نفقہ میں بھی فرق ہوگا،یعنی حسب حیثیت واجب ہوگا''۔

( باب النفقات،ج:13،ص:463،ط:ادارۃ الفاروق)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100186

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں