بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1448ھ 02 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مدرس مہینے کے درمیان استعفی دے تو تنخواہ کا حکم


سوال

میں ایک مدرسے میں مدرس تھا، ذی القعدہ میں استعفی دیا، ادارے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ آپ شعبان رمضان میں ایڈوانس تنخواہ لے چکے ہیں، لہذا شوال کے مہینے اور ذی القعدہ کے کچھ ایام کی تنخواہ آپ کو نہیں ملے گی، کیا ان کی یہ بات درست ہے؟ نیز شوال کے ان ایام کی تنخواہ کا کیا حکم ہے جو تعلیمی سلسلہ شروع ہونے سے پہلے کے ایام ہیں؟

کیا مسجد کی چیز مدرسے میں استعمال کی جاسکتی ہے؟ زید نے مسجد کا پنکھا جو مسجد سے نکال کر مدرسے میں لگایا تھا اس کو مسجد میں واپس کردیا، کیا اس پنکھے کے واپس کرنے کی وجہ سے زید کی تنخواہ سے رقم وصول کی جاسکتی ہے،؟ ادارے والوں نے پنکھے کی رقم تنخواہ سے کاٹ لی تھی۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب آپ نے سال شروع ہونے کے بعد شوال کے مہینہ  میں پڑھایا اور ذی القعدہ کے درمیان میں خود استعفی دیا تو ایسی صورت میں شعبان رمضان اور شوال کی پوری تنخواہ کے آپ حق دار ہیں، البتہ ذی القعدہ یعنی مہینے کے درمیان چھوڑنے پر اس مہینے کی تنخواہ کے بارے میں ادارے کا کوئی ضابطہ ہو تو اس کے مطابق عمل کیا جائے گا اور اگر کوئی ضابطہ نہ ہو تو جتنے ایام تدریس کی ہے ان ایام کی تنخواہ کے آپ حق دار ہوں گے۔ 

مسجد کی چیزیں مدرسے میں استعمال کرنا جائز نہیں، زید نے مسجد کا جو پنکھا مدرسے میں لگایا تھا شرعاً اس کو مسجد میں واپس کرنا ضروری تھا، پنکھا واپس کرنے کی وجہ سے مدرسے والوں کا زید کی تنخواہ سے پنکھے کی رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، بلکہ وہ رقم واپس زید کو لوٹانا ضروری ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب في استحقاق القاضي والمدرس الوظيفة في يوم البطالة (قوله: وينبغي إلحاقه ببطالة القاضي إلخ) قال في الأشباه وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب له في بيت المال في يوم بطالته، فقال في المحيط: إنه يأخذ لأنه يستريح لليوم الثاني وقيل لا. اهـ. وفي المنية القاضي يستحق الكفاية من بيت المال في يوم البطالة في الأصح، وفي الوهبانية أنه أظهر فينبغي أن يكون كذلك في المدرس؛ لأن يوم البطالة للاستراحة، وفي الحقيقة تكون للمطالعة والتحرير عند ذوي الهمة، ولكن تعارف الفقهاء في زماننا بطالة طويلة أدت إلى أن صار الغالب البطالة، وأيام التدريس قليلة اهـ ورده البيري بما في القنية إن كان الواقف قدر للدرس لكل يوم مبلغا فلم يدرس يوم الجمعة أو الثلاثاء لا يحل له أن يأخذ ويصرف أجر هذين اليومين إلى مصارف المدرسة من المرمة وغيرها بخلاف ما إذا لم يقدر لكل يوم مبلغا، فإنه يحل له الأخذ وإن لم يدرس فيهما للعرف، بخلاف غيرهما من أيام الأسبوع حيث لا يحل له أخذ الأجر عن يوم لم يدرس فيه مطلقا سواء قدر له أجر كل يوم أو لا. اهـ. ط قلت: هذا ظاهر فيما إذا قدر لكل يوم درس فيه مبلغا أما لو قال يعطى المدرس كل يوم كذا فينبغي أن يعطى ليوم البطالة المتعارفة بقرينة ما ذكره في مقابله من البناء على العرف، فحيث كانت البطالة معروفة في يوم الثلاثاء والجمعة وفي رمضان والعيدين يحل الأخذ، وكذا لو بطل في يوم غير معتاد لتحرير درس إلا إذا نص الواقف على تقييد الدفع باليوم الذي يدرس فيه كما قلنا."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:372، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فإن عرض في المدة ما يمنع الانتفاع  ۔۔۔۔ سقطت الأجرة بقدر ذلك."

(كتاب الاجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة وما يتعلق به من الملك وغيره، ج:4، ص:413، ط:سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"وما خالف شرط الواقف فهو مخالف للنص وهو حكم لا دليل عليه، سواء كان نصه في الوقف نصا أو ظاهرا اهـ وهذا موافق لقول مشايخنا كغيرهم، شرط الواقف كنص الشارع فيجب اتباعه كما صرح به في شرح المجمع للمصنف."

(کتاب الوقف، ج:4، ص:495، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100167

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں