نفل نماز میں متعدد نیتیں کرنے کا حکم، عشاء کی دو رکعت سنت مؤکدہ کے بعد دو رکعت نفل کا ثبوت اور فضیلت
سوال
نوافل میں ایک سے زیادہ نیت کی گنجائش ہے یا نہیں ؟ نیزعشاء کی نماز کی دو رکعت سنت اور وتر کے درمیان دو رکعت نفل نماز میں مختلف نیتیں کرنا (مثلا تہجد کی نماز، شکر کی نماز، صلاۃ الحاجت، صلاۃ الاستخارہ وغیرہ) شرعی اعتبار سے درست ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرما دیجئے۔ نیز احادیث کی روشنی میں سنت اور وتر کے درمیان دو رکعت پڑھنے کی کیا فضیلت ہے؟
جواب
ایک نفل نماز کی ادائیگی میں کئی نوافل (جیسے تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضو، چاشت وغیرہ) کی نیتیں کی جا سکتی ہیں اور متعدد نیتیں کرنے پر ان ہی دو رکعتوں میں ان تمام نوافل کا ثواب ملے گا، البتہ جس عمل کی نیت کر رہا ہو اس کا وقت اور موقع بھی ہونا ضروری ہے، اگر کسی ایسے عمل کی یا کسی ایسی نفل کی نیت کی جس کا وہ وقت ہی نہیں تھا پھر وہ اجر کا مستحق نہیں ہوگا، جیسےرات میں نفل پڑھتے وقت چاشت کی نیت لغو ہے، اسی طرح دن میں نفل پڑھتے ہوئے تہجد کی نیت کرنا لغو ہوگی۔نیز یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ ایک نفل میں متعدد نوافل کی نیت درست ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف دو رکعت نفل میں ساری نوافل کی نیت کر کے باقی نوافل کو مستقل طور پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ یہ تو ضرورت کے موقع پر سہولت کے اَحکام ہیں، ورنہ حسبِ موقع جتنی توفیق ہو زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
عشاء کی دو رکعت سنت اور تین رکعت وتر کے درمیان دو رکعت نفل پڑھتے وقت بھی نفل کے عمومی ضابطے کی رُو سے مختلف نیتیں (مثلا تہجد، شکر، حاجت، استخارہ وغیرہ کی نماز کی نیت) کرنا بھی شرعاً درست اور جائز ہے۔
عشاء کی فرض نماز کے بعد حضور ﷺ سے چار رکعت پڑھنا ثابت ہے، چار میں سے دو رکعت سنتِ مؤکدہ ہیں اور دو رکعت نفل ہیں جن کا پڑھنا مستحب ہے، اگر کوئی عشاء کی دو رکعت سنتِ مؤکدہ کے مزید دو رکعت نفل نہ پڑھے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، البتہ اگر کوئی دو رکعت سنت کے بعد مزید دو رکعت نفل پڑھ لے تو جن روایات میں عشاء کی فرض نماز کے بعد چار رکعت پڑھنے پر شبِ قدر میں چار رکعت پڑھنے کے بقدر اجر ملنے کی فضیلت وارد ہوئی ہیں تو اسے وہ فضیلت بھی مل جائے گی۔
«صحيح البخاري» میں ہے:
«عن ابن عباس قال:بت في بيت خالتي ميمونة بنت الحارث، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم عندها في ليلتها، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء إلى منزله، فصلى أربع ركعات، ثم نام، ثم قام، ثم قال: (نام الغليم). أو كلمة تشبهها، ثم قام، فقمت عن يساره، فجعلني عن يمينه، فصلى خمس ركعات، ثم صلى ركعتين، ثم نام، حتى سمعت غطيطه أو خطيطه، ثم خرج إلى الصلاة.»
(كتاب العلم،باب: السمر في العلم، ج:1، ص:55، ط:دار ابن كثير)
«مصنف ابن أبي شيبة»میں ہے:
"حدثنا محمد بن فضيل، عن العلاء بن المسيب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه، عن عائشة، قالت: «أربع بعد العشاء يعدلن بمثلهن من ليلة القدر.
حدثنا وكيع، عن عبد الجبار بن عباس، عن قيس بن وهب، عن مرة، عن عبد الله، قال: «من صلى أربعا بعد العشاء لا يفصل بينهن بتسليم، عدلن بمثلهن من ليلة القدر."
(كتاب صلاة التطوع والإمامة وأبواب متفرقة،في أربع ركعات بعد العشاء، ج:2، ص:127، ط:مكتبة الرشد - الرياض)
"الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ" میں ہے:
"وأما ما يتعلق بالعشاء ففي سنن سعيد بن منصور من حديث البراء رفعه من صلى قبل العشاء أربعا كان كأنما تهجد من ليلته ومن صلاهن بعد العشاء كمثلهن من ليلة القدر وأخرجه البيهقي من حديث عائشة موقوفا وأخرجه النسائي والدارقطني موقوفا على كعب."
(كتاب الصلاة، باب النوافل، ج:1، ص:198، ط:دارالمعرفة)
"سنن ترمذی" میں ہے:
"عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ثابر على ثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر."
(أبواب الصلاة، باب ما جاء فيمن صلى في يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة من السنة، ج:1، ص:537، ط:دارالغرب الاسلامي)
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
"ثم إنه إن جمع بين عبادات الوسائل في النية صح، كما لو اغتسل لجنابة و عيد و جمعة اجتمعت و نال ثواب الكل، وكما لو توضأ لنوم وبعد غيبة وأكل لحم جزور، وكذا يصح لو نوى نافلتين أو أكثر، كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف، والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولايحتاج إليها في كل جزء اكتفاء بانسحابها عليها، ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى، وأن لايأتي بمناف بين النية والمنوي."
(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة وأركانها، ص:216، ط:دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"ولو نافلتين كسنة فجر وتحية مسجد فعنهما."
(كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مطلب في ستر العورة، فروع في النية، ج:1، ص:440، ط:سعيد)
الفقہ الإسلامی وأدلتہ للزحيلي میں ہے:
"قال الحنفية: إما أن يكون الجمع بين العبادتين في الوسائل أو في المقاصد. فإن كان في الوسائل، فإن الكل صحيح، كما لو اغتسل الجنب يوم الجمعة للجمعة ولرفع الجنابة، ارتفعت جنابته وحصل له ثواب غسل الجمعة. ومثله لو نوى الغسل للجمعة والعيد، فإنهما يحصلان.وإن كان في المقاصد: فإما أن ينوي فرضين، أو نفلين، أو فرضا ونفلا ... وأما إذا نوى نافلتين، كما إذا نوى بركعتي الفجر التحية والسنة أجزأت عنهما."
(مقدمات ضرورية عن الفقه، المطلب الثاني عشر، ج:1، ص:185، ط:دار الفكرسوريَّة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما مقدار كل واحدة منها، ووقتها على التفصيل: فركعتان قبل الفجر، وأربع قبل الظهر لا يسلم إلا في آخرهن، وركعتان بعده، وركعتان بعد المغرب، وركعتان بعد العشاء كذا ذكر محمد في الأصل، وذكر في العصر والعشاء إن تطوع بأربع قبله فحسن، وذكر الكرخي هكذا إلا أنه قال في العصر: وأربع قبل العصر، وفي العشاء وأربع بعد العشاء، وروى الحسن عن أبي حنيفة وركعتان قبل العصر، والعمل فيما روينا على المذكور في الأصل.والأصل في السنن ما روي عن عائشة - رضي الله عنها - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من ثابر على اثنتي عشرة ركعة في اليوم والليلة بنى الله له بيتا في الجنة: ركعتين قبل الفجر، وأربع قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد العشاء» ، وقد واظب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عليها ولم يترك شيئا منها إلا مرة أو مرتين لعذر.
وإنما قال في الأصل: إن التطوع بالأربع قبل العشاء حسن؛ لأن التطوع بها لم يثبت أنه من السنن الراتبة، ولو فعل ذلك فحسن؛ لأن العشاء نظير الظهر في أنه يجوز التطوع قبلها وبعدها، ووجه رواية الكرخي في الأربع بعد العشاء ما روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - موقوفا عليه ومرفوعا إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من صلى بعد العشاء أربع ركعات كن له كمثلهن من ليلة القدر» وروي عن عائشة أنها «سئلت عن قيام رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في ليالي رمضان فقالت: كان قيامه في رمضان وغيره سواء، كان يصلي بعد العشاء أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم كان يوتر بثلاث»."
(كتاب الصلاة، فصل الصلاة المسنونة، ج:1، ص:284، ط:دارالكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وسن) مؤكدا (أربع قبل الظهر )...(وركعتان قبل الصبح وبعد الظهر والمغرب والعشاء) شرعت البعدية لجبر النقصان، والقبلية لقطع طمع الشيطان (ويستحب أربع قبل العصر، وقبل العشاء وبعدها بتسليمة) وإن شاء ركعتين.
(قوله وإن شاء ركعتين) كذا عبر في منية المصلي. وفي الإمداد عن الاختيار: يستحب أن يصلي قبل العشاء أربعا وقيل ركعتين، وبعدها أربعا وقيل ركعتين اهـ. والظاهر أن الركعتين المذكورتين غير المؤكدتين."
(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:13، ط:سعيد)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
"عن عائشة أنه -علیه الصلاة والسلام- کان یصلي قبل العشاء أربعا ثم یصلي بعدہا أربعًا ثم یضطجع."
(ج:1،ص:66،ط: بیروت)
کفایت المفتی میں ہے:
وتر سے پہلے دو رکعت نفل کا ثبو ت
(سوال ) وتر کے قبل جو دو رکعت نفل لوگ پڑھتے ہیں ان کا کہیں ثبوت ہے یا نہیں ؟ المستفتی نمبر ۱۰۴۱ مولوی عبدالقدوس صاحب امام مسجد (ترکمان دروازہ دہلی )۱۶ ربیع الثانی ۱۳۵۵ھ ۷ جولائی ۱۹۳۶ء (جواب ۵۱۶) عشاء کے بعد دو رکعتیں تو سنت مؤکدہ ہیں اور دو نفل ہیں آنحضرت ﷺ سے ان کا ثبوت ہے ۔ بخاری میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے ۔ صلی رسول اللہ ﷺ العشاء ثم جاء فصلی اربع رکعات ثم نام ثم قام الخ یعنی آنحضرت ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی پھر گھر میں آئے اور چار رکعتیں پڑھیں پھر سوگئے پھر (تہجد کے لئے) اٹھے۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ‘
(کتاب الصلاۃ، باب النوافل، ج: 3، ص :318، دارالاشاعت، کراچی)
فقط واللہ أعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

