بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 ربیع الثانی 1448ھ 04 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انوشہ، اشال، شارین، ہرین نام رکھنے کا حکم


سوال

مندرجہ ذیل ناموں کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ نام رکھنا مناسب ہیں یا نہیں؟

 انوشہ، اشال، شارین، ہرین۔

جواب

1. "انوشے"  یا "انوشہ" عربی لفظ نہیں ہے بلکہ فارسی لفظ ہے اور اس کا ایک معنی خوشحال، دولہا، داماد، نوجوان بادشاہ، خوش حال،آفرین ہے، اس معنی کے اعتبار سے  بچی کا نام انوشہ رکھنا درست ہے۔ البتہ  اگر  صحابیات میں سے کسی صحابیہ کا نام رکھا جائے  یا   نام عربی الفاظ میں سے  ہو اور معنی بھی اچھا ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

2. اِشَال نام کا معنی ہے: کمزور، غریب محتاج ہونا (القاموس الوحید، المادۃ:و/ ش/ل، ص:1854، ط:ادارۃ الاسلامیات)

مذکورہ معنیٰ کے اعتبار سے بچے کا نام اشال رکھنا درست نہیں ہے۔

3. شارین نام اردو، عربی اور فارسی لغات میں نہ مل سکا، اس لیے جب تک اس لفظ کا معنیٰ کسی زبان کی مستند لغت سے نہ مل جائے اس نام سے اجتناب کرنا چاہیے۔

4.  ہُرین لفظ کا  کا  درست   تلفظ یہ ہے: "حورین"  ،  یہ نام رکھنا مناسب نہیں؛  کیوں کہ  "حُوْرین" (’ح‘ کے ضمہ کے ساتھ) لفظ "حُوْر"  کی تثنیہ یا جمع ہوسکتا ہے، اور لفظِ "حُوْر" میں تین احتمال ہیں:

  الف- ’’أَحْوَر‘‘ (مذکر صفت) کی جمع ہو۔ اس اعتبار سے یہ نام رکھنا درست نہیں۔

ب- ’’حَوْرَاء‘‘ (مؤنث صفت کی جمع ہو)، اس اعتبار سے اس کا معنیٰ ہیں: سفید رنگت والی عورتیں،  ’’حور‘‘ جنت کی عورتوں  کو کہتے ہیں۔ لیکن ’’حُوْر‘‘ مفرد نہیں، بلکہ جمع ہے۔ ان دونوں احتمالات (’’أَحْوَر‘‘کی جمع ہو یا ’’حَوْرَاء‘‘  کی) کے اعتبار سے ’’حُوْر‘‘ کی تثنیہ یا جمع ’’حُوْرین‘‘ درست نہیں ہے۔

ج- ’’حُوْر‘‘ (مفرد اسم) ہو، اس کا معنیٰ ہے: نقصان، اور ہلاکت۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ نام رکھنا مناسب نہیں ہے۔

البتہ "حور عین" لڑکی کا نام رکھا جاسکتا ہے، جس کا معنی وہ عورت جس کی آنکھوں کی سفیدی نہایت سفید اور سیاہی نہایت سیاہ ہو، تاہم بہتر یہ ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام، صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم کے ناموں ر کھے جائیں۔

لغاتِ فارسی میں ہے :

"انوشہ ؍ نوشہ : (ف) دولہا،  داماد ۲۔ نوجوان بادشاہ۔ ۳۔ خوشحال، خرم ۴۔ شاباش، مرحبا ۵۔ شرابِ انگور"

(ص:72، دار  عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرو)

حسن اللغات میں ہے:

"اُنوشہ:(1)دولہا، داماد، (2)نوجوان بادشاہ، (3)خوش حال۔"

(ص:73، ط:اورینٹیل بک سوسائٹی لاہور)

فرہنگ بزرگ میں ہے:

"انوشہ:آفرین"

(ص:83، ط:مؤسسہ فرہنگ معاصر تہران)

الصحاح تاج اللغۃ میں ہے:

"والحور أيضا: شدة بياض العين في شدة سوادها. يقال: امرأة حوراء بينة الحور. ويقال: احورت عينه احورارا. واحور الشئ: ابيض. قال الاصمعي: لا أدرى ما الحور في العين؟ وقال أبو عمرو: الحور أن تسود العين كلها مثل أعين الظباء والبقر. قال: وليس في بنى آدم حور، وإنما قيل للنساء حور العيون لانهن شبهن بالظباء والبقر. وتحوير الثياب: تبيضها. وقول العجاج:

(بأعين محورات حور ) يعني الأعين النقيات البياض، الشديدات سواد الحدق".

(‌‌‌‌باب الراء، فصل الحاء، حور، 2/ 639، ط:دار العلم للملايين)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144804100100

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں