بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1448ھ 16 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قسم توڑ دینے کی صورت میں کفارے کا حکم اور اس کی مقدار

سوال

میں نے غصے میں آ کر اللہ کی قسم کھا لی تھی کہ اب سے بھائی کے گھر نہیں جاؤں گا۔ بعد میں ماں کے کہنے پر چلا گیا۔ اب کیا کرنا ہو گا؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سائل پر قسم کا کفارہ لازم ہو چکا ہے۔

کفارے کی صورتیں تین ہیں، ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا اختیار ہے:

اول: دس مسکینوں کو دو وقت کا پیٹ بھر کھانا کھلائے، بشرطیکہ صبح جن مسکینوں کو کھلائے شام کو بھی انہی کو کھلائے۔

دوم: دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے برابر گندم یا اس کی قیمت دے دے، اور اگر جَو دے تو اس کی دگنی مقدار دے۔

سوم: دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے، اور کپڑا ایسا ہو جو عام طور پر تین ماہ سے زیادہ چل سکے اور اس سے عام طور پر بدن ڈھک جائے۔

اور اگر کوئی شخص اتنا تنگ دست ہو کہ نہ کھانا کھلا سکتا ہو اور نہ کپڑا دے سکتا ہو، تو کفارۂ قسم کی نیت سے مسلسل تین روزے رکھے؛ اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کیے تو کفارہ ادا نہ ہو گا، اور اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو دوبارہ نئے سرے سے تین روزے رکھے۔

نیز واضح رہے کہ کفارہ ایک ہی مسکین کو بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ دس دن تک روزانہ اسے دو وقت کا کھانا یا اس کی رقم دی جائے؛ ایک ہی دن میں ایک ہی مسکین کو پوری مقدار دے دینے سے کفارہ ادا نہ ہو گا۔

قرآنِ کریم میں ہے:
"﴿لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ، وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ، فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ، فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ، وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ، كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾"

 (سورۃ المائدۃ: 89)

ترجمہ:

 ”اور اللہ تعالیٰ تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتے تمہاری قسموں میں لغو قسم پر، لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتے ہیں کہ تم قسموں کو مستحکم کرو۔ سو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا اوسط درجہ کا، جو اپنے گھر والوں کو کھانے کو دیا کرتے ہو، یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا؛ اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں۔ یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا جب کہ تم قسم کھا لو، اور اپنی قسموں کا خیال رکھا کرو۔“

(بیان القرآن، ج:3، ص:510، ط: رحمانیہ)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وكفارته) هذه إضافة للشرط؛ لأن السبب عندنا الحنث (تحرير رقبة، أو إطعام عشرة مساكين) كما مر في الظهار، (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و(يستر عامة البدن)، فلم يجز السراويل إلا باعتبار قيمة الإطعام."

(كتاب الأيمان، ج:3، ص:725، ط: دار الفكر، بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144804100053
تاریخ15-10-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں