
اگر بلی نے چوہا کھایا ہو اور کچھ دیر کے بعد وہ برتن میں منہ ڈال دے تو کیا حکم ہے، ایسی صورت میں دودھ کے ناپاک نہ ہونے کے لئے کتنی دیر گزرنے کا اعتبار ہوگا؟
نیز کیا فقط کچھ دیر گزرنا کافی ہے یا اس کے منہ سے خون کے اثر کا دور ہونا ضروری ہے؛ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ہے۔ اور فتاوی ہندیہ کی اس عبارت میں ساعۃ او ساعتین سے کیا مراد ہے؟ "فإن أكلت فأرة وشربت الماء من فورها يتنجس وإن مكثت ساعة أو ساعتين ثم شربت لا يتنجس هو الصحيح" (الفتاوى الهندية، كتاب الطهارة، الباب الثالث في المياه، الفصل الثاني، جلد 1، صفحه 24، اسلامی کتب خانہ - لاہور)
صورت مسئولہ میں اگر بلی نے چوہا کھانے کے فورًا بعد کسی چیز ( چاہے دودھ ہو یا پانی وغیرہ) میں منہ ڈالا تو اس صورت میں وہ چیز شرعاً ناپاک ہوگی، اور اگر چوہا کھانے کے فورًا بعد منہ نہیں ڈالا بلکہ کچھ دیر گزرنے کے بعد ڈالا، تو اس صورت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس کے منہ پر خون لگا ہوا ہو تو پھر تو منہ ڈالنے سے وہ چیز ناپاک ہوگی، اور اگر اس کے منہ پر خون نہ ہو تو وہ چیز نجس ( ناپاک) تو نہیں ہوگی تاہم مکروہ ضرور ہوگی۔
نیز مسئولہ صورت میں بلی کے منہ سے خون کے اثر کا زائل ہونا ضروری ہے، فقط کچھ دیر کا گزرنا نہیں، تاہم چونکہ بلی اپنے منہ کو جلدی صاف کرتی ہے، اس لیے فقہاء کرام نے اس کے لیے ساعۃ یا ساعتین کے وقفے کا قول اختیار کیا ہے یعنی اگر تھوڑی دیر بعد بلی اپنا منہ کسی چیز میں ڈال دے، تو اس سے وہ چیز شرعاً ناپاک نہیں ہوگی، باقی ساعۃ سے زمانے کا کچھ حصہ مرا د ہے ،ایک گھنٹہ نہیں ،جیسا کہ عام طور پر ایک گھنٹہ مراد لیا جاتا ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وهرة فور أكل فأرة نجس) مغلظ.
وفي الرد: (قوله فور أكل فأرة) فإن مكثت ساعة ولحست فمها فمكروه منية، ولا ينجس عندهما. وقال محمد: ينجس؛ لأن النجاسة لا تزول عنده إلا بالماء، وينبغي أن لا ينجس على قوله إذا غابت غيبة يجوز معها شربها من ماء كثير حلية."
( كتاب الطھارة، باب المياه، فرع البعد المانع من وصول نجاسة البالوعة إلى البئر، ج: 1، ص: 223، ط: سعيد)
المحیط البرہانی میں ہے:
"إذا أكلت فأرة وشربت من إناء على فورها ذلك يتنجس الماء بلا خلاف، وإن مكثت ساعة أو ساعتين ثم شربت لا يتنجس الماء عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله. وقال محمد: يتنجس.فأبو حنيفة رحمه الله يقول: إذا مكثت ساعة أو ساعتين فقد غسلت فمها بلعابها، ولعابها طاهر، وإزالة النجاسة بما هو سوى الماء من المائعات عندي جائز، فشربت بعد ذلك وفمها طاهر. وأبو يوسف رحمه الله يقول: النجاسة وإن كانت لا تزول عندي إلا بصب الماء عليه لكن في مثل هذا الموضع يحكم بالزوال بدون الصب للضرورة.ومحمد رحمه الله يقول: إزالة النجاسة بما سوى الماء من المائعات عندي لا يجوز، فبقي فمها نجساً كما كان."
( كتاب الطهارات، الفصل الرابع في المياه التي يجوز التوضؤ بها والتي لا يجوز التوضؤ بها، ج: 1، ص: 127، ط: دار الكتب العلمية )
فتاویٰ شامی میں ہے:
"والساعة في عرف الفقهاء جزء من الزمان لا جزء من أربعة وعشرين كما يقوله المنجمون كذا في غرر الأذكار وغيره.
( كتاب الصوم، باب الاعتكاف، ج: 2، ص: 443، ط: سعيد)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144804100026
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن