
میرا سوال دفتر میں مستقل جماعت کرنے سے متعلق ہے، کیا مسجد صرف 5 منٹ کی دوری پر ہونے کے باوجود دفتر میں مستقل جماعت کروائی جا سکتی ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:" ومن أظلم ممن منع مساجد الله أن يذكر فيها اسمه وسعى في خرابها."
آج کل دفتروں میں جماعت سے نماز ادا کرنا بہت عام ہوتا جا رہا ہے، جس سے مسجد کا مقصد فوت ہوتا ہوا معلوم ہو رہا ہے۔ برائے مہربانی اس بارے میں راہ نمائی فرمائیں۔ نیز یہ بھی بتائیں کہ کن اعذار کی بنا پر مسجد کی جماعت چھوڑی جا سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنی چاہیے اور بغیر کسی شرعی عذر کے گھر،دکان،دفتر یا کسی اور جگہ اپنی جماعت کرانا مناسب نہیں ہے اور اس میں مسجد کی حق تلفی ہے ،البتہ اگر گھر،دکان یا دفتر وغیرہ میں باجماعت نماز ادا کی گئی تو جماعت کا ثواب مل جائے گا لیکن مسجد والی فضیلت حاصل نہیں ہوگی۔
شرعی اعذار میں بیماری،جان اور مال وغیرہ کا خطرہ شامل ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ."
(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج: 1، ص: 554، ط: سعيد)
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
"وقال في المبسوط لو صلى إنسان في بيته لا يأثم فقد فعله ابن عمر وعروة وسالم والقاسم وإبراهيم ونافع فدل فعل هؤلاء أن الجماعة في المسجد سنة على سبيل الكفاية إذ لا يظن بابن عمر ومن تبعه ترك السنة اه. وإن صلاها بجماعة في بيته فالصحيح أنه نال إحدى الفضيلتين فإن الأداء في المسجد له فضيلة ليس للأداء في البيت ذلك وكذا الحكم في الفرائض."
(كتاب الصلاة، فصل في صلاة التراويح، ص: 413، ط: دار الكتب العلميه بيروت)فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144803102143
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن