
میری ڈیوٹی میرے گھر سے تقریباً 200 کلومیٹر دور دوسرے ضلع میں ہے۔ میں ہر ہفتے گھر واپس آتا ہوں، گھر میں دو دن قیام کرنے کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر چلا جاتا ہوں۔ راستے کے سفر اور ڈیوٹی اسٹیشن پر 5، 6 دن قیام کے دوران مجھے نماز پوری پڑھنی ہوگی یا قصر؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کا ڈیوٹی اسٹیشن اس کے وطنِ اصلی سے تقریباً 200 کلومیٹر دور ہے اور وہاں اس کا قیام عموماً 5، 6 دن کا ہوتا ہے، تو سائل سفر کے دوران یعنی اپنے وطن (شہر وغیرہ) کی آبادی سے نکلنے کے بعد اور ڈیوٹی اسٹیشن پر قیام کے دوران مسافر شمار ہوگا اور ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نمازیں قصر کرکے دو دو رکعت ادا کرے گا، جبکہ فجر اور مغرب کی نمازیں مکمل ادا کرے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه (قاصدًا) و لو كافرًا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة و لا(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس: إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعًا (حتى يدخل موضع مقامه)."
(کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر،ج: 2،ص: 122،ط: سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتي يترخص برخصة المسافرين...ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.هذا إذا سار ثلاثة أيام أما إذا لم يسر ثلاثة أيام فعزم على الرجوع أو نوى الإقامة يصير مقيما وإن كان في المفازة ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح، وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح، واتحاد الموضع والمدة، والاستقلال بالرأي، هكذا في معراج الدراية."
( كتاب الصلوة، الباب الخامس عشر في صلوة المسافر، ج:1، ص:139، ط: دارالفكر)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"جو شخص تین منزل کی مسافت 48 میل کا ارادہ کرکے سفر کرے، وہ راستہ میں قصر کرے گا، لیکن اگر راستہ میں 48 میل سے پہلے پندرہ یا زائد ایام ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو راستہ میں قصر نہیں کرے وہ شرعی مسافر نہیں۔"
( کتاب الصلوۃ، باب صلوۃ المسافر، ج:7، ص:481، ط:ادارۃ الفاروق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144803102141
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن