بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ غیر سودی بینکوں سے نفع لینے کا حکم

سوال

کوئی بندہ اسلامی بینک میں کچھ رقم جمع کرواتا ہے، بینک اس رقم کے بدلے میں ماہانہ منافع دیتے ہیں، وہ نفع فکس نہیں ہوتا تو کیا یہ جائز ہے؟ پاکستان میں اسلامی بینک کون کون سے ہیں؟ میزان بینک اسلامی بینک ہے؟ بینک والوں کا کہنا ہے ہم آپ کی رقم سے کاروبار کرتے ہیں۔ اس کے بدلے میں جو نفع آتا ہے اس سے اتنا فیصد نفع آپ کو دیں گے۔ اب یہ نفع شرعاً جائز ہے کہ نہیں ہے؟

جواب

اگر کوئی سودی یا غیر سودی بینک رقم لے کر  اس سے حقیقی کاروبار نہیں کرتا، بلکہ محض رقم کے بدلے نفع دیتا ہے  تو   یہ سود  ہونے کی وجہ سے شرعًا حرام ہے۔

مروجہ غیر سودی بینک اگرچہ رقم لے کر کاروبار کا کہتے ہیں، لیکن ہمارے علم کے مطابق اب تک ان کے کاروباری معاملات کی تطبیق مکمل طور  پر فقہی اصولوں کے موافق نہیں  ہے؛ اس لیے ان سے کسی کاروباری معاملہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144803102118
تاریخ28-09-2026

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں